Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت

عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت

تحفظات کی فراہمی میں مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کی صراحت پر زور : محمد علی شبیر

تحفظات کی فراہمی میں مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کی صراحت پر زور : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل تلنگانہ مسٹر محمد علی شبیر نے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہوئے طلبہ کے مطالبات کو جائز قرار دیا۔ تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کرتے وقت مسلمانوں اور قبائلی طبقہ کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے صراحت کرنے پر زور دیا بصورت دیگر حکومت کے خلاف احتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ دیا۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کا اہم رول رہا جس کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 1969ء کی جئے تلنگانہ تحریک اور جاریہ 12 سال کی تلنگانہ تحریک میں عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹی کے طلبہ کی تحریک ناقابل فراموش ہے۔ طلبہ نے تعلیم ترک کرتے ہوئے امتحانات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے تحریک تلنگانہ میں حصہ لیا ضرورت پڑنے پر جان کی قربانیاں دینے والوں میں بھی طلبہ و نوجوان سرفہرست ہیں۔ صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی نے تلنگانہ تحریک میں طلبہ کی حصہ داری اور جان کی قربانیاں دینے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا اور علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی۔ تشکیل تلنگانہ ریاست کے بعد اقتدار حاصل کرنے والی ٹی آر ایس نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے طلبہ کو نظرانداز کردیا۔ ان پر دو مرتبہ پولیس کے ذریعہ لاٹھی چارج کرایا گیا ہے۔ طلبہ پر پولیس کے لاٹھی چارج سے تلنگانہ تحریک کی پھر ایک بار یاد تازہ ہوگئی ہے۔ وہ اور کانگریس پارٹی طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات حق بجانب ہیں۔ ملازمت کی فراہمی کے معاملے میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور وزراء کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے جس سے طلبہ برادری الجھن کا شکار ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے آئندہ دو سال تک سرکاری ملازمتوں پر تقررات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ وزراء بہت جلد تقررات کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ لمبے عرصہ سے سرکاری تقررات کو روک دیا گیا۔ تقررات میں تاخیر سے طلبہ کی حد عمر میں اضافہ ہورہا ہے۔ مزید تاخیر کرنے سے تحریک میں حصہ لینے والے طلبہ ملازمتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں اور قبائیلی طبقہ کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ 10 ماہ کے دورحکومت میں ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا سرکاری ملازمتوں پر تقررات کیلئے جب بھی حکومت اعلامیہ جاری کرے اس میں مسلمانوں اور قبائیلی طبقہ کے 12 فیصد تحفظات کی صراحت کرے بصورت دیگر کانگریس پارٹی طلبہ، مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کے ساتھ حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT