عثمانیہ یونیورسٹی کے 1800 غیرتدریسی ملازمین کی ہڑتال ، کے سی آر خاموش

اپوزیشن جماعتیں بھی موثر نمائندگی میں ناکام ، کئی ملازمین تنخواہوں سے محروم ،شدید مالی پریشانیوں کے شکار

حیدرآباد۔17ڈسمبر(سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ میں برسوں سے عارضی خدمات انجام دینے والے 1800 سے زائد غیر تدریسی ملازمین کی جانب سے جاری احتجاج 36ویں دن میں داخل ہوگیا لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہ کئے جانے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی نظر انداز کرنے والی پالیسی کے سبب عثمانیہ یونیورسٹی میں حالات بگڑ سکتے ہیں۔ غیر تدریسی عملہ کو برسوں سے عارضی طور پر خدمات انجام دے رہا ہے اس میں کچھ ملازمین نے بھوک ہڑتال بھی شروع کی ہے اور اس زنجیری بھوک ہڑتال کو شروع ہوئے بھی 28 یوم گذر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کاوائی نہیں کی جا رہی ہے جو کہ عارضی ملازمین کے لئے تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے۔ملازمین کا کہناہے کہ وہ عارضی ملازم کی حیثیت سے خدمات انجام ویتے ہوئے اب وظیفہ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور کئی ملازمین سبکدوش بھی ہو چکے ہیں اور ہر مرتبہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے عارضی ملازمین کے مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جامعہ عثمانیہ میں جاری اس احتجاج کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نظر انداز کیئے جانے کی پالیسی کو عارضی ملازمین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ انتظامیہ کی جانب سے وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کی معیاد میں توسیع کرتے ہوئے انہیں خدمات کا موقع دیا جا رہاہے لیکن مخلوعہ جائیدادوں پر خدمات انجام دینے والے عارضی ملازمین کی خدمات کو مستقل بنانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ احتجاجی ملازمین نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری اثر کے ساتھ خدمات سے برطرف کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن اس کے باوجود احتجاج جاری رکھنے والے 1800 سے زائد ملازمین کی جانب سے احتجاج ختم نہیں کیا گیا بلکہ اس میں مزید شدت پیدا کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ عارضی ملازمین کی تنخواہیں 3000ہزار سے 20000 ہزار تک ہیں اور انہیں عدالتی احکام کے مطابق تنخواہوں کی اجرائی بھی عمل میں نہیں لائی جار ہی ہے اور کہا جار ہا ہے کہ ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس کے ذریعہ عارضی ملازمین کو بھی مستقل ملازمین کے مساوی تنخواہوں کی اجرائی عمل میں لائی جا سکے۔ صدر تلگودیشم پارٹی گریٹر حیدرآباد ایم این سرینواس نے آج احتجاجی ملازمین کے کیمپ پہنچ کر خطاب کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے ملازمین کو دیئے جانے والے دھوکہ کو تحریک تلنگانہ کے دوران کئے گئے وعدہ سے انحراف کے مترادف قراردیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی حکومت ملازمین اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں ناکام ہوچکی ہے اور جو وعدہ کیا گیا تھا اسے پورا کرنے کے بجائے مخالف ملازمین اقدامات کئے جارہے ہیں۔سرینواس نے بتایا کہ تحریک تلنگانہ کے دوران مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ملازمتوں کو مستقل بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT