Tuesday , December 11 2018

عثمان ساگر کو تفریحی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز

وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی ایچ ایم ڈی اے کو ہدایت
حیدرآباد۔18فروری (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے حیدرآباد کے عوام کی تفریح کے لئے ایک اور منصوبہ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے اور عثمان ساگر کو تفریحی مرکز کے طور پر فروغ دینے کی تیاریوں کا آغاز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤنے حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو جاری کردہ احکام میں اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ عثمان ساگر کے اطراف سیاحتی مراکز کے فروغ کو یقینی بنائیں تاکہ عثمان ساگر کو مزید ناجائز قبضوں سے بچانے کے علاوہ عوامی دلچسپی کے مرکز کے طور پر فروغ دیا جاسکے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کی ہدایت کے بعد مسٹر ٹی چرنجیولو کمشنر حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے عثمان ساگر کا معائنہ کرتے ہوئے عثمان ساگر کے اطراف 36 کیلو میٹر کی آہنی جالی کی حصار بندی کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس آہنی جال کی حصار بندی کیلئے 20کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ عثمان ساگر کے اطراف میں مختلف علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ چہل قدمی کے لئے جگہ بنائی جائے اور سیکلنگ ٹریک تعمیر کئے جائیں۔ابتدائی منصوبہ کے مطابق حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے فوری 20 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے 36 کیلو میٹر کی حصار بندی کو یقینی بنایا جائے گا اور اس حصار بندی کے عمل کی تکمیل کے بعد ہی مزید ترقیاتی کاموں کو ممکن بنایا جائے گا۔ مسٹرٹی چرنجیولو نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے احکام وصول ہونے کے بعد ترقیاتی منصوبہ کی تیاری کیلئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور آئندہ 2 ماہ کے دوران مختلف منصوبوں کو بغرض منظوری حکومت کے پاس روانہ کیا جائے گا اور اس بات کی بھی نشاندہی کی جائے گی کہ ان ترقیاتی امور کی تکمیل کے لئے کس ایجنسی کی خدمات حاصل کی جائیں۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست بالخصوص حیدرآباد میں سیاحت کے فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں متعدد اعلانات کئے جا چکے ہیں اور اب تک بھی کئی پراجکٹس پر کام کا عملی آغاز نہیں ہوپایا ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران عثمان ساگر کے اطراف 36کیلو میٹر پر محیط آہنی جالی کی حصار بندی کے تعمیراتی کاموں کو یقینی بنایا جائے گا اور عثمان ساگر کے اطراف جاری ناجائز قبضہ جات و تعمیرات کو فوری اثر کے ساتھ روکا جا سکے۔ ا

TOPPOPULARRECENT