Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / عدالتوں میں عیسائی طلبہ کو حکومت کی جانب سے مفت ٹریننگ

عدالتوں میں عیسائی طلبہ کو حکومت کی جانب سے مفت ٹریننگ

مسلم طلبہ کو بھی استفادہ کی مساعی،سکریٹری شیخ محمد اقبال کی حکومت سے نمائندگی

مسلم طلبہ کو بھی استفادہ کی مساعی،سکریٹری شیخ محمد اقبال کی حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد۔/19فبروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش حکومت نے کرسچین اقلیت سے تعلق رکھنے والے لا گریجویٹس کی عدلیہ میں نمائندگی میں اضافہ کیلئے منفرد اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت عیسائی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لا گریجویٹس کو سرکاری خرچ پر مختلف عدالتوں میں سرکاری لا آفیسرس کے ساتھ جوڑتے ہوئے ٹریننگ دی جائے گی۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے لا گریجویٹس کو اس طرح کی ٹریننگ دی جاتی ہے جسے کرسچین اقلیت کیلئے توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود آندھرا پردیش شیخ محمد اقبال نے جی او ایم ایس 44جاری کیا۔ اس منفرد اسکیم کو مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کیلئے بھی توسیع دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آندھرا پردیش کے ساتھ ساتھ تلنگانہ حکومت بھی اس اسکیم میں مسلم اقلیت کو شامل کرے تو عدلیہ میں مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوگا۔سرکاری سطح پر دی جانے والی ٹریننگ سے قابل اور اہل قانون داں تیار ہوسکتے ہیں۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے لا گریجویٹس کو ٹریننگ سے متعلق اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے منیجنگ ڈائرکٹر کرسچین فینانس کارپوریشن نے حکومت کومکتوب روانہ کیا جس میں کرسچین طبقہ کے لا گریجویٹس کو بھی اس اسکیم میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ حکومت آندھرا پردیش نے اس تجویز سے اتفاق کرلیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال آندھرا پردیش کے ہر ضلع سے 2لا گریجویٹس کا انتخاب کیا جائے گا اور ہر سال عیسائی طبقہ کے 26لا گریجویٹس کو ٹریننگ دی جائے گی۔ ہر طالب علم کو تین برس تک ماہانہ ایک ہزار روپئے اسٹائیفنڈ ادا کیا جائے گا۔ ٹریننگ کے پہلے سال کتابوں اور فرنیچر کیلئے 6ہزار روپئے ادا کئے جائیں گے۔ ٹریننگ کے دوران سمینارس، ورکشاپ اور سمپوزیم میں شرکت کیلئے سالانہ 2000روپئے منظور کئے جائیں گے۔ کرسچین طلبہ کو انرول فیس کے طور پر 585روپئے حکومت منظور کرے گی۔ اس ٹریننگ پروگرام میں اہلیت کیلئے آمدنی کی حد حکومت ہند کی جانب سے پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے مقرر کردہ حدہوگی۔ ضلع کلکٹرس امیدواروں کے انتخاب کیلئے درخواستیں طلب کریں گے اور دو سے زائد درخواستوں کی صورت میں انٹرویو کے ذریعہ سلیکشن کیا جائے گا۔ ضلع کلکٹر ضلعی سطح پر کمیٹی تشکیل دیں گے۔ منتخبہ امیدواروں کو متعلقہ ضلع میں گورنمنٹ پلیڈر، پبلک پراسیکیوٹر کے تحت رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ کورٹ، موبائیل کورٹس، سیشن کورٹس میں ٹریننگ دی جائے گی۔ امیدواروں کو بار کونسل آف انڈیا یا اسٹیٹ بار کونسل آندھرا پردیش میں رجسٹریشن کروانا ہوگا۔ کرسچین طلبہ کیلئے شروع کی گئی اس منفرد اسکیم کو اقلیتی طلبہ تک توسیع دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جناب شیخ محمد اقبال نے اس سلسلہ میں حکومت کو تجویز پیش کی تاکہ اقلیتی طلبہ کو عدلیہ میں موثر مواقع حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے ہر سطح کی عدالت میں ماہر اور قابل وکلاء تیار کئے جاسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT