Wednesday , December 19 2018

عدالتوں میں پسماندہ طبقات کو تحفظات پرزور

مرکز سے دستور میں ترمیم کا مطالبہ ۔ رکن اسمبلی آر کرشنیا کا بیان
حیدرآباد 7 جنوری ( آئی این این ) پسماندہ طبقات ویلفیر اسوسی ایشن کے صدر و رکن اسمبلی آر کرشنیا نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ ‘ ہائیکورٹ اور دیگر قانونی اداروں میں ایس سی ‘ ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ بی سی ایڈوکیٹس اسوسی ایشن کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرشنیا نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ قانونی اداروں میں ذات پات پر مبنی تحفظات کی فراہمی کیلئے دستور میں ترمیم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میںتحفظات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے کئی فیصلے سنائے جا رہے ہیں جن سے سماجی انصاف کی نفی ہوتی ہے ۔ مسٹر کرشنیا نے کہا کہ بی سی ‘ ایس ٹی اور ایس ٹیز کیلئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں ججس کے تقررات میں ان کی آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل یا پھر اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا عہدہ بھی بی سی طبقات کیلئے محفوظ کیا جانا چاہئے ۔ اسی طرح پبلک پراسکیوٹر اور اڈیشنل پبلک پراسکیوٹر کا عہدہ بھی بی سیز کیلئے محفوظ کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اداروں میں کئے جانے والے مختلف تقررات میں بی سیز کو جملہ 54 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ مسٹر کرشنیا نے قانون ساز اداروں میں بی سیز کو 50 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT