عدالتیں رضامند بالغوں کی شادی کو منسوخ نہیں کرسکتیں: سپریم کورٹ

۔26 سالہ طالبہ ہادیہ کی قبول اسلام کے بعد مسلم نوجوان سے شادی کو منسوخ کرنیوالے کیرالا ہائیکورٹ حکمنامہ پر سوالیہ نشان۔ 8 مارچ کو کیس کی آئندہ سماعت

نئی دہلی ، 22 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج استفسار کیا کہ آیا باہمی رضامندی سے شادی کرنے والے دو بالغ افراد کے درمیان ’’مسئلہ رضامندی‘‘ کی انکوائری کا حکم دیا جاسکتا ہے اور آیا کیرالا ہائی کورٹ کا ہادیہ کو ’’لوو جہاد‘‘ کی مبینہ شکار قرار دیتے ہوئے اُس کی شادی کو منسوخ کرنے والا حکمنامہ حق بجانب ہے؟ یہ سوالات چیف جسٹس دیپک مصرا اور جسٹس اے ایم کھنویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کیرالا کی لڑکی کے کیس کی سماعت کے دوران کئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتیں دو باہم رضامند بالغوں کے درمیان شادیوں کو منسوخ نہیں کرسکتے یا ایسی کوئی ’’غیرمحدود انکوائری‘‘ کے احکام نہیں جاری کرسکتے کہ آیا کوئی آدمی اور کسی عورت کے درمیان شادی کا بندھن رضامندی کی بنیاد پر ہوا ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس زیرقیادت بنچ نے ہادیہ کیس میں اس عدالت کے حدودِ کار کی صراحت کی۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا: ’’کیا کوئی عدالت کہہ سکتی ہے کہ کوئی شادی حقیقی نہیں ہے یا یہ کہ آیا یہ رشتہ حقیقی نہیں ہے؟ کیا عدالت کہہ سکتی ہے اُس (ہادیہ) نے مناسب شخص سے شادی نہیں کی؟ وہ ہم سے رجوع ہوئی اور ہمیں بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرچکی ہے۔‘‘ ہومیوپیتھی کی طالبہ 26 سالہ ہادیہ نے اسلام قبول کیا اور اس کے بعد ایک مسلم نوجوان سے شادی کی۔ اس شادی کو کیرالا ہائی کورٹ نے منسوخ کردیا، اور کہا کہ یہ ’’شرم‘‘ کا معاملہ ہے۔ اُس کے والد اشوکن کے ایم نے الزام عائد کیا کہ اُسے ’’منظم نٹ ورک‘‘ کی طرف سے ذہن سازی کے ذریعے شکار بنایا گیا۔ یہ نٹ ورک ہندوستانی شہریوں کی بھرتی کرنے اور انھیں بیرون ملک لے جانے والی محاذی تنظیم ہے، تاکہ انھیں جنگ سے بدحال ملکوں جیسے شام میں ’’جنسی یرغمال‘‘ کے طور پر کام کرنے مجبور کیا جاسکے۔ سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے اشوکن کی پیروی کرتے ہوئے بنچ سے کہا: ’’اُس (ہادیہ) نے ٹیلی فون پر اپنے والد کو بتایا کہ وہ شام کو بھیڑ چَرانے جانا چاہتی ہے۔ کوئی کوئی باپ ایسے ہوسکتے ہیں جو اس طرح کی خبر کو خاموشی اور تحمل سے سنتے ہیں، لیکن اِس باپ کو سخت تشویش لاحق ہوئی۔‘‘ ایڈوکیٹ دیوان نے کہا کہ اُن کے مؤکل کی بیٹی ’’انسانی اسمگلنگ کے زبردست نٹ ورک‘‘ کا شکار ہوئی ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے جوابی استفسار کیا کہ اگر شہریوں کی غیرقانونی منتقلی کا معاملہ ہے تو حکومت کو قابل بھروسہ معلومات کی بنیاد پر اسے روکنے کے اختیارات حاصل ہیں۔ اگر شہری ظاہر طور پر غیرقانونی عمل کا حصہ بننے کیلئے بیرون ملک کا سفر کررہے ہیں، تب بھی حکومت انھیں روکنے کی مجاز ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے شیام دیوان کو بتایا کہ ’’لیکن شخصی قانون کے معاملے میں ہم شادیاں اس لئے منسوخ نہیں کرسکتے کہ اُس (ہادیہ) نے درست آدمی سے شادی نہیں کی‘‘۔ چیف جسٹس مصرا نے کہا کہ ہادیہ کے والد ہنوز اُسے بچی تصور کرسکتے ہیں جو کچھ غیرمعمولی صورتحال میں پھنس گئی۔ ’’لیکن وہ (ہادیہ) بالغ ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا: ’’ہمیں جو بات پریشان کررہی ہے وہ دو باہم رضامند بالغوں کی شادی کے بارے میں غیرمحدود انکوائری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے آیا رضامندی حقیقی ہے یا نہیں؟‘‘ عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت 8 مارچ کو طے کی ہے۔ قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) اس معاملے کی جانچ کرتا آرہا ہے اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کیرالا میں ’’ذہن سازی‘‘، کٹرپسند بنانے اور مخصوص نظریات میں ڈھالنے کے اسی طرح کے کئی دیگر معاملے پیش آچکے ہیں۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے این آئی اے سے کہا تھا کہ ہادیہ کے اپنی شادی کیلئے شفین جہان کو منتخب کرنے کی جانچ پڑتال سے دور رہے۔

TOPPOPULARRECENT