Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / عدالت میں جے این یو لیڈر پر حملہ کی تردید: کمشنر دہلی پولیس بی ایس بسی

عدالت میں جے این یو لیڈر پر حملہ کی تردید: کمشنر دہلی پولیس بی ایس بسی

خاطرخواہ سیکوریٹی انتظامات، حملہ آور وکلاء کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے پولیس کے فیصلہ کی مدافعت
نئی دہلی ۔ 17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے پٹیالہ ہاؤز کورٹ کامپلکس میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے لیڈر کنہیار کمار کو زدوکوب کئے جانے کی تردید کی اور پولیس کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے خلاف طاقت کا زیادہ استعمال نامناسب اور فائدہ کے بجائے نقصاندہ ثابت ہوسکتا تھا۔ بسی نے کہا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ انہیں (کنہیا کمار کو) زدوکوب کیا گیا۔ عدالت میں زبردست دھکم پیل ضرور ہوئی۔ ہم اس کی توقع کرچکے تھے جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاطرخواہ تعداد میں پولیس افسران کو ان (کمار) کی حفاظت کیلئے تعینات کیا گیا تھا۔ ہمارے افسران نے ان کی حفاظت کی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ عدالت کی صورتحال قابو سے باہر ہوچکی تھی‘‘۔ بسی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے کنہیا کمار اور چند صحافیوں پر ہوئے حملہ کے پیش نظر سپریم کورٹ نے سخت سیکوریٹی کی ہدایت کی تھی جس کی تعمیل کی گئی۔ تاہم دو موقعوں پر دھکم پیل ہوئی اور پولیس افسران نے کنہیا کمار کی حفاظت کی اور حملہ سے بچا لیا۔ بسی نے وکلاء سے احتیاط کے ساتھ نمٹنے سے متعلق اپنے موقف کی تائید میں مدراس ہائیکورٹ، الہ آباد ہائیکورٹ اور دیگر مقامات پر ماضی میں پیش آئے چند پرتشدد واقعات کا حوالہ بھی دیا۔

اس دوران جے این یو اسٹوڈنٹس لیڈر کنہیا کمار کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے پر مختلف گوشوں سے کی جانے والی تنقیدوں میں اضافہ کے درمیان دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے آج دعویٰ کیا کہ ان (کمار) کے خلاف واضح ثبوت ہیں اور یونیورسٹی میں منعقدہ متنازعہ تقریب میں باہر کے افراد بھی شریک تھے۔ اس دوران مبینہ طور پر مخالف ہند نعرے لگائے گئے تھے۔ وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) سے باہر نکلتے ہوئے بسی نے وہاں موجود اخباری نمائندوں سے کہا کہ جے این یو تقریب میں مبینہ طور پر لگائے گئے مخالف ہند نعروں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اس واقعہ کے محرکات کے بشمول تمام زاویوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بسی نے مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس ان (کمار) کے خلاف کافی ثبوت ہیں۔ تحقیقات کے عمل کے بارے میں اور تاحال دستیاب مواد کے بارے میں آپ سے کچھ نہیں کہہ رہا ہوں‘‘۔ انہوں نے سیکوریٹی اداروں کی شہادتوں کی بنیاد پر ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ کمار نے ملک دشمن نعرے نہیں لگایا تھا یا پھر جے این یو تقریب میں اشتعال انگیز تقریر نہیں کی تھی‘‘۔ بسی نے کہا کہ ’’اس (تقریب) میں کثیر تعداد نے شرکت کی تھی اور اس کے اصل لیڈر کی ہم پہلے ہی شناخت کرچکے ہیں۔ اب ہم ان تمام کو تلاش کررہے ہیں جن کی شناخت کی جاچکی ہے۔ بہت جلد ہم ان کو پکڑ لیں گے‘‘۔ پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گرو کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے خلاف یونیورسٹی میں گذشتہ ہفتہ منعقدہ تقریب کے ضمن میں کنہیا کمار کو 12 فبروری کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کو کلین چٹ دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بسی نے صورتحال کی سنگینی کا حوالہ دیتے ہوئے مشہور زمانہ نغمہ کے یہ بول دہرایا۔

دیکھ تیرے سنسار کی حالت کیا ہوگئی بھگوان
کتنا بدل گیا انسان

TOPPOPULARRECENT