Thursday , February 22 2018
Home / Top Stories / عدلیہ ، مقننہ اور عاملہ کومل کر کام کرنے مودی کا مشورہ

عدلیہ ، مقننہ اور عاملہ کومل کر کام کرنے مودی کا مشورہ

اختیارات کے مسئلہ پر چیف جسٹس اور وزیر قانون کے مابین لفظی بحث

نئی دہلی ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ مقننہ ، عدلیہ اور عاملہ ایک ہی خاندان کے حصے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل جلکر استحکام کیلئے کام کرنا چاہئیے ۔ اس سے پہلے چیف جسٹس اور وزیر قانون کے مابین عدالتی اختیارات کے مسئلہ پر لفظی تکرار ہوگئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدلتے حالات میں مقننہ ، عدلیہ اور عاملہ تین شعبوں کو فعال اور متحرک بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ہی خاندان کے ارکان ہیں ۔ ہمیں یہ ثابت نہیں کرنا چاہئیے کہ کون صحیح ہے یا کون غلط ہے ۔ ہمیں اپنی طاقت کا اندازہ ہے اور ہمیں اپنی کمزوریوں کا بھی پتہ ہے ۔ انہوں نے آج قومی یوم قانون کے موقع پر ججس اور وکلاء کی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ عاملہ ، مقننہ اور عدلیہ کے مابین توازن دستور کی اصل طاقت ہے اور اسی کی وجہ سے ایمرجنسی کے دوران ملک کو مدد ہوئی تھی ۔ وزیراعظم کی تقریر سے قبل وزیر قانون روی شنکر پرساد نے عدلیہ ، مقننہ اور عاملہ کے مابین اختیارات کی تقسیم کے انصاف پر مبنی اصول کی یاددہانی کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی علحدگی کا تصور عدلیہ کیلئے بھی اسی طرح لازم ہے جس طرح عاملہ کیلئے ہے ۔ ان کے تبصرہ پر جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ایک دوسرے کا باہمی احترام ہونا چاہئیے اور کوئی بھی کسی بھی شعبہ کی برتری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔ وزیر قانون کے اس بیان پر کہ حکمرانی کا معاملہ منتخبہ نمائندوں تک ہی محدود ہونا چاہئیے ، چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق دستور کی اصل روح ہے اور عدلیہ اس کے تحفظ کا اختیار رکھتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT