Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / عدلیہ سے حکومت کی لا پرواہی

عدلیہ سے حکومت کی لا پرواہی

اگر انصاف ہو جذبات سے عاری تو اچھاہے
مگر بے حس اگر ہو جائیں حاکم تو براہوگا
عدلیہ سے حکومت کی لا پرواہی
کسی بھی ملک میں عدلیہ یا عدالتی نظام کی انتہائی اہمیت ہوتی ہے ۔ اس شعبہ میں مظلوموں اور بے بسوں کی فریاد سنی جاتی ہے ۔ انہیں انصاف اور راحت فراہم کیا جاتا ہے ۔ حکومتیں بھی عدلیہ کے کام کاج کی اہمیت کو سمجھتی ہیں اور اس کا احترام کیا جاتا ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں عدلیہ کو عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس کے فیصلوں کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کی تعمیل کی جاتی ہے ۔ یہاں بے بس و بے یار و مدد افراد انصاف اور مدد کی آس لگائے آتے ہیں اور انصاف حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستان میںانصاف رسانی کا عمل قدرے سست ہے لیکن انصاف ضرور فراہم کیا جاتا ہے ۔ یہ ایسا شعبہ ہے جس کو سماج کے تمام طبقات میں یکساں عزت و احترام حاصل ہے ۔ یہاں ظالموں اور مجرمین کو کیفر کردار تک پہونچاتے ہوئے قرار واقعی سزائیں دی جاتی ہیں۔ یہاں مظلوموں کی مدد کی جاتی ہے اور ملک و سماج میں امن و سکون اور چین کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن جدوجہد کی جاتی ہے ۔ ہر ملک کی طرح ہندوستان میں بھی عدلیہ کا انتہائی احترام ہے ۔ ہندوستان دنیا کا ایک وسیع و عریض ملک ہے ۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی جمہوریت بھی ہے ۔ جہاں اس کی جمہوری اقدار کا پاس و لحاظ اہمیت کا حامل ہے وہیں عدالتی نظام کی غیر جانبداری اور اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم اسی عدالتی نظام سے حکومتیں مسلسل لاپرواہی برت رہی ہیں۔ کئی دہوں سے ہندوستان کی عدالتوں میں معزز ججس کی جائیدادیں تقرر طلب ہیں لیکن حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں کرتی ۔ ملک کی سپریم کورٹ ہو یا ریاستوں کی ہائیکورٹس ہوں یا پھر نچلی عدالتیں ہوں ہر جگہ ججس کی کمی ہے اور اس کی وجہ سے ملک میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ بے یار و مددگار لوگ جو انصاف حاصل کرنے کی آس میں عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں وہ انصاف کے حصول سے محروم ہیں۔ ہندوستان کی تمام عدالتوں میں مقدمات کی کثیر تعداد ہے جو التوا کا شکار ہے اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہے کہ عدالتوں میں عدالتی عملہ اور ججس کی خاطر خواہ تعداد موجود نہیں ہے ۔ حکومت سے بارہا نمائندگیاں کی گئی ہیں لیکن اس جانب مرکز میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت نے خاطر خواہ توجہ نہیں کی ہے ۔
ہائیکورٹس چیف جسٹسوں اور ریاستوں کے وزرائے اعلی کی کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ٹی ایس ٹھاکر جب ججس کی قلت اور انصاف رسانی کے عمل میں ہونے والی مشکلات کا تذکرہ کر رہے تھے تو وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ ان کی آواز رندھ گئی اور یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے آنسو روکنے کیلئے انہیں کتنی تگ و دو کرنی پڑی ہوگی ۔ یہ چیف جسٹس آف انڈیا کا کوئی شخصی مسئلہ نہیں ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے ہوں یہ ملک کے انصاف رسانی کے عمل کا مسئلہ ہے ۔ یہ ان کی نگرانی میں ملک بھر میں کام کرنے والے ججس کو ہو رہی مشکلات اور پریشانیوں کا مسئلہ ہے ۔ ججس کی قلت اور مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ہندوستان میں 1950 میں سپریم کورٹ نے کام کرنا شروع کیا تھا اس وقت 8 ججس تھے اور 1.215 مقدمات کی سماعت کرنی تھی لیکن آج سپریم کورٹ میں 60,000 مقدمات ہیں اور ان کی سماعت کیلئے محض 31 ججس ہیں۔ امریکہ میں 8 رکنی ججس پیانل سال بھر میں سماعت کے بعد 81 مقدمات کی یکسوئی کرتا ہے تو ہندوستان میں منصف مجسٹریٹ ہو یا سپریم کورٹ کے کوئی معزز جج سال بھر میں 2,600 مقدمات کی یکسوئی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ملک کا ہر ذی شعور شہری اندازہ کرسکتا ہے کہ ملک کی عدلیہ کس حال میں کام کر رہی ہے اور اس پر کس قدر بوجھ ہے ۔ مل کی مختلف ریاستوں کے ہائیکورٹس میں ججس کی سینکڑوں جائیدادیں تقرر طلب ہیں اور ان کو پر کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدہ پر فائز ہونے والی ہر شخصیت نے حکومت سے بارہا اس تعلق سے نمائندگیاں کی ہیں اور تقاریب میں بھی اظہار خیال کرتے ہوئے توجہ دلانے کی کوشش کی ہے لیکن مرکز میں قائم ہونے والی حکومتوں نے اس سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ حکومتیں یہاں ذمہ داریوں سے بچنے کا طریقہ اختیار کرتی ہیں یا پھر ججس کے انتخاب کے طریقہ کار پر اختلاف پیدا کرتے ہوئے پھر مسئلہ برفدان کی نذر کردیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی توجہ دہانی کے بعد یہ ضروری ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے اور محض ٹال مٹول کی پالیسی سے کام لینے کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ نہ صرف ججس اور عدلیہ پر عائد بوجھ کو کم کرنے کا مسئلہ ہے بلکہ ملک کے کروڑہا عوام کے یقین اور اعتبار کا مسئلہ ہے جو عدلیہ سے وابستہ ہے ۔ اس کی اہمیت کو حکومت کو سمجھنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT