Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / عدلیہ کو انفرااسٹرکچر اور اسٹاف کی فراہمی پر زور

عدلیہ کو انفرااسٹرکچر اور اسٹاف کی فراہمی پر زور

حکومت کی ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت۔ بامبئے ہائی کورٹ
ممبئی۔/3نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) بامبئے ہائی کورٹ نے آج کہا ہے کہ حکومت مہاراشٹرا کو یہ محسوس کرلینا چاہیئے کہ اگر انفرااسٹرکچر ( بنیادی سہولیات ) اور اسٹاف ( عملہ ) کی فراہمی کے ذریعہ عدلیہ کی اعانت نہیں کرے گی تو کیسے ممکن ہوگا کہ زیر التواء کیسوں کی عاجلانہ یکسوئی کی جاسکتی ہے۔ جسٹس ایس سی دھرم ادھیکاری اور جسٹس بی بی قلابدوالا پر مشتمل بنچ نے سیلس ٹیکس ٹریبونل بار اسوسی ایشن کی پیش کردہ ایک عرضی پر سماعت کی جس میں عدلیہ کو انفراسٹرکچر اور اسٹاف کی فراہمی کیلئے گذارش کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ جس طرح ایک پولیس اسٹیشن اور سرکاری دفاتر کو حکومت کی اعانت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے عدلیہ کو نقشہ میں شامل کیا جائے ، ہمیں امید ہے کہ حکومت کی ذہنیت میں تبدیلی آئے گی اور ہمیں مداخلت کی دوبارہ زحمت نہیں ہوگی۔ سرکاری وکیل وی اے سونیال نے عدالت کو تیقن دیا کہ مہاراشٹرا سیلس ٹیکس ٹریبونل کے جوڈیشل ممبر کا بہت جلد تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بامبئے ہائی کورٹ کے رجسٹرارس کیلئے تجویز موصول ہوگئی ہے اور مطلوبہ کارروائی کیلئے وزارت قانون سے رجوع کردیا گیا ہے اور قطعی فیصلہ ریاستی چیف منسٹر کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ اور مہاراشٹرا پبلک سرویس کمیشن نے حلف ناموں میں یہ اطلاع دی ہے کہ ٹریبونل کو اسٹاف کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT