Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / عدم رواداری اور غنڈہ گردی تشویشناک اور قابل مذمت

عدم رواداری اور غنڈہ گردی تشویشناک اور قابل مذمت

تمام مسائل پر مہذب انداز میں بحث پر زور ، اشتعال انگیز اور متنازعہ بیانات ناپسندیدہ : ارون جیٹلی

نئی دہلی ۔ 20 اکٹوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے عدم رواداری ، توڑ پھوڑ و غنڈہ گردی کے واقعات میں اضافہ پر گہری تشویش و مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے رجحان سے انھیں کافی تکلیف پہونچی ہے ۔ انھوں نے تمام مسائل پر مہذب انداز میں غور و بحث کی ضرورت پر زور دیا۔ جیٹلی نے کہاکہ دادری میں ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کو مار مار کر ہلاک کئے جانے کے واقعہ پر متنازعہ بیانات دینے والے بی جے پی قائدین کی خود اس پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سرزنش کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی اس قسم کے متنازعہ بیانات سے اتفاق نہیں کرتی ۔ واضح رہے کہ مرکز اور مہاراشٹرا میں برسراقتدار بی جے پی کی ایک حلیف جماعت شیوسینا کے کارکنوں کی جانب سے گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے اجلاس کے مقام پر حملہ اور اس سے قبل عالمی شہرت یافتہ پاکستان کے افسانوی غزل گلوکار غلام علی کے پروگرام کے خلاف پرتشدد احتجاج نیز پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رسم اجرائی تقریب کا اہتمام کرنے والے سدھیندر کلکرنی کے چہرہ پر کالک پوتنے کے واقعات کے تناظر میں ارون جیٹلی نے یہ بیان دیا ہے ۔ علاوہ ازیں جموں و کشمیر کے ایک آزاد رکن انجینئر رشید کے چہرہ پر گزشتہ روز دہلی میں ہندوتوا جنونیوں نے کالک پوت دی تھی ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ عرصہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ہولناک اضافہ ہوا ہے ۔ گائے کا گوشت کھانے محض ایک افواہ پر دادری میں 50 سالہ محمد اخلاق کو جنونی ہجوم نے مار مار کر ہلاک کردیا تھا ۔ ہماچل پردیش میں ایک مسلم نوجوان کا ایسا ہی حشر ہوا ۔ جموں و کشمیر میں بھی گائے کی اسمگلنگ کے شبہ پر جنونی ہجوم نے محمد زاہد پر پٹرول بم حملہ کیا تھا

جس میں وہ ہلاک ہوگیا تھا ۔ غالباً ان تمام واقعات پر سماج کے مختلف گوشوں میں پیداشدہ برہمی و ناراضگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ارون جیٹلی نے یہ بیان دیا۔ انھوں نے کہاکہ ’’فکر صحیح رکھنے والے تمام افراد کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے طریقوں سے خود کو دور رکھیں۔ جیٹلی نے مزید کہاکہ جو لوگ اس قسم کا تشدد اور غنڈہ گردی اختیار کررہے ہیں انھیں چاہئے کہ اس بات پر خود کا محاسبہ کریں اور غور کریں کہ آیا وہ اس سے ہندوستانی جمہوریت کو معیار بخش رہے ہیں یا پھر ساری دنیا کی مرکز توجہہ رہنے والے اس ملک ہندوستان کی ساکھ متاثر کررہے ہیں ۔ جیٹلی نے ایک سوال پر جواب دیا کہ بشمول شیوسینا تمام جماعتوں کو چاہئے کہ وہ مہذب انداز میں احتجاج کریں ۔ مظفرنگر فسادات کیس کے ایک ملزم بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم اور چند دیگر سرکردہ بی جے پی قائدین کے اشتعال انگیز بیانات سے پیداشدہ تنازعات سے متعلق سوالات پر جیٹلی نے جواب دیاکہ حکومت اس مسئلہ پر سخت موقف اختیار کررہی ہے ۔ آپ نے دیکھا کہ وزیراعظم کے تبصرہ کے بعد بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے بی جے پی کے کئی متنازعہ قائدین کو طلب کرتے ہوئے ان کی سرزنش کی اور واضح طورپر کہا کہ بی جے پی اس قسم کے بیانات پسند نہیں کرتی، چنانچہ مجھے یقین ہے کہ اب یہ قائدین اپنا رویہ درست کرلیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT