Monday , November 20 2017
Home / مضامین / عدم رواداری پر جیٹلی کا مضحکہ خیز بیان

عدم رواداری پر جیٹلی کا مضحکہ خیز بیان

غضنفر علی خان

ملک میں ہر طرف یہ احساس شدت اختیار کررہا ہے کہ ہمارے ملک میں تنگ نظری اور مذہبی عصبیت ہندوستان کی روح کو مجروح کررہی ہے ، لیکن وزیر فینانس ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ عدم رواداری ملک میں نہ کبھی تھی نہ کبھی ہوگی ۔ ان کی یہ بات آدھی سچائی ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں کبھی بھی عدم تحمل پسندی ، عدم رواداری کبھی نہیں تھی ۔ مختلف رنگ و نسل ، عقائد اور ثقافتیں کچھ اس طرح مل گئی تھیں کہ ہندوستان تہذیبوں اور مذاہب کا ایک گہوارہ بن گیا تھا ۔مسٹر جیٹلی یہ بھول گئے کہ کسی گوشے سے یہ نہیں کہا گیا اور نہ کہا جارہا ہے کہ ہندوستان عدم رواداری کا ہمیشہ شکار رہا ، بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ جب سے بی جے پی اقتدار پر آئی ہے ، فضا مسموم ہوگئی ہے۔ کسی کو بھی ملک دشمن قرار دیا جارہا ہے ۔ کسی کو ملک چھوڑنے کی صلاح دی جارہی ہے ۔ بی جے پی کے معروف اور سینئر لیڈر یہ باتیں دہرارہے ہیں ۔ اس ماحول کو کسی دوسری پارٹی نے ملک میں پیدا نہیں کیا بلکہ خالصتاً بی جے پی اس صورتحال کے لئے ذمہ دار ہے ۔ سادھوی پراچی ، اشکوک سنگھل ، گری راج سنگھ ، یوگی آدتیہ ناتھ تو جیسے چاہے کہہ دیتے ہیں  ۔ان سے حکومت کبھی جواب طلب نہیں کرتی ۔ اب تو ان عناصر کو یقین ہوگیا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ ان کا یہ احساس غلط بھی نہیں ہے ۔ کئی بی جے پی لیڈروں نے دل آزار بیانات دیئے ، کچھ نے دادری کے محمد اخلاق کے محض افواہ کی بنا پر غیر انسانی انداز میں قتل کو روزمرہ کا واقعہ قرار دیا ، کچھ نے کہا کہ گائے کے گوشت کھانے والوں کے لئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ، انھیں پاکستان چلا جانا چاہئے ۔ تقسیم ہند کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی پسند سے بغیر کسی دباؤ کے ہندوستان کو اپنا وطن تسلیم کیا تھا ۔ ان کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا کہ وہ ہندوستان چھوڑدیں ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے یہیں رہنے بسنے کا فیصلہ خود اپنے طور پر کیا تھا جن کو ترک وطن کرنا تھا وہ وطن چھوڑ کر چلے گئے اور پڑوسی ملک میں بس گئے ۔ پھر آج کسی دلیل و حجت کے تحت مذکورہ بالا عناصر یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان جو گوشت خود ہیں وہ ہندوستان سے چلے جائیں ۔ یہ ملک اتنا ہی مسلمانوں کا وطن ہے جتنا کہ کسی اور مذہب کے ماننے والے ہندوستانیوں کا ہے ۔ آج کل ملک کا ماحول اتنا خراب ہوگیا ہے کہ ہر ذی شعور حالات سے پریشان و فکرمند ہے ۔ عام ہندوستانیوں کی یہ منطق سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ کیوں کسی ہندوستانی مسلمان کو محض اپنی غذائی عادت کی وجہ سے پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔

عدم تحمل پسندی اور عدم رواداری کے موجودہ ماحول میں تو ملک کے قلم کار ، وکلا  ، مصنفین ، اہل فکر و فن افراد بطور احتجاج اپنے اعزازات واپس کررہے ہیں ۔ ہر ٹی وی چینل پر اخبار میں یہ مباحث ہورہے ہیں کہ حکومت کو ان عناصر پر لگام کسنی چاہئے ، جو ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی بیان ایسا آتا ہے جس میں ایک خاص مذہبی نقطہ نظر کی تائید اور اقلیتوں کے تعلق سے گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود ملک کے وزیر فینانس جیٹلی کہہ رہے ہیں کہ ’’عدم رواداری‘‘ ملک میں نہیں پائی جاتی ۔ کم از کم عدم رواداری کی تعریف ہی وہ کردیتے کہ آخر کس بات یا کس عمل کو عدم رواداری کہا جاسکتا ہے ۔ محمد اخلاق کے قتل عبث نے تو صاف ظاہر اور ثابت کردیا کہ ہندوتوا کے پرزور حامی زندہ انسان کو لاٹھیوں سے  پیٹ پیٹ کر انھیں ہلاک کردیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ اطلاع غلط تھی کہ مرحوم کے گھر میں گائے کا گوشت رکھا تھا ۔ یہ واقعہ دراصل موجودہ عدم رواداری کی تحریک کا اصل سبب بنا اور بھی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ رواداری ختم ہوگئی ۔ یا تیزی سے ختم ہورہی ہے یا ختم کی جارہی ہے ۔ فلمی اداکار شاہ رخ خان نے عدم رواداری پر اپنی رائے کا اظہار کیا تو انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ پاکستان چلے جائیں یا پھر انھیں پڑوسی ملک پاکستان بھیج دیا جائے ۔ حالانکہ انھوں نے کوئی بات ایسی نہیں کہی تھی جس سے ان پر ملک دشمنی کا بے بنیاد الزام عائد کیا جائے ۔ ایسی باتیں تو تقریباً تمام آرٹسٹ ، فلم ساز ، اداکار کررہے ہیں ۔ شاہ رخ خان کو اپنی تنقید کا شکار بناتے ہوئے مدھیہ پردیش کے بی جے پی لیڈر کیلاش وجئے ورگیا نے کہا کہ شاہ رخ رہتے تو ہندوستان میں ہیں لیکن ان کا دل پاکستان میں رہتا ہے ۔ لیجئے صاحب اب بی جے پی لیڈر دل کا حال بھی جاننے لگے ۔ دل سے کون کیا ہے یہ تو صرف خالق کائنات ہی جانتا ہے۔ لیکن بی جے پی کے لیڈروں کی ’’ہمہ دانی‘‘ کا کرشمہ ہے کہ وہ کسی کے دل کی کیفیت بھی بتانے لگے ۔ سادھوی پراچی نے جو انتہا درجہ کی بے معنی باتیں کرتی ہیں ، شاہ رخ خان کو پڑوسی ملک بھجوانے کا مشہور دیا ۔ اس سے زیادہ عدم رواداری کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ۔ پھر بھی ارون جیٹلی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں عدم رواداری کا کوئی ماحول نہیں ہے ۔ حد تو یہ ہوئی کہ کرناٹک کے ایک بی جے پی لیڈر چنا بسپا نے تو کرناٹک کے چیف منسٹر کا سر قلم کردینے کی دھمکی دے ڈالی ۔

یہ دھمکی پارٹی کے مقامی یونٹ کے احتجاجی جلسہ میں برسرعام دی گئی ہے اور دھمکی کسی اور عام آدمی کو نہیں بلکہ ریاست کرناٹک کے چیف منسٹر سدارامیا کو دی گئی ، جو منتخبہ وزیراعلی ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب کسی ریاست کے چیف منسٹر کو ایسی دھمکی دی جاسکتی ہے تو کسی عام شہری پر تو ایسی دھمکی کا عملی نمونہ بھی پیش کیا جاسکتا ہے ۔ دھمکی میں یہ بھی کہا گیا کہ جس دن سدا رامیا گائے کا گوشت کھائیں گے ان کا سر قلم کردیا جائے گا اور یہ کہ سر قلم کرنے کی دھمکی کو محض دھمکی نہ سمجھا جائے ۔ اس بات پر کوئی شبہ نہیں کیا جانا چاہئے کہ سر قلم کردیا جائے گا ۔ کیوں سر قلم کرنے کی دھمکی دی گئی اور کیوں اس پر بی جے پی قیادت خاموش ہے ۔ کیا ارون جیٹلی کے خیال میں چنا بسپا کی اس دھمکی کے خلاف قانون نہیں اور عدم رواداری کا ثبوت نہیں ہے ۔ پھر کس بنیاد پر جیٹلی یہ دعوی کررہے ہیں کہ ملک میں عدم رواداری کا ماحول نہیں ہے ۔ ماحول ہے ، دن بدن مستحکم ہورہا ہے ، ہر دن ایسے بیانات دینے والوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ۔ کیونکہ حکومت خاموش تماشائی ہے ۔ عدم رواداری کے ماحول کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے ملک کے ایک وزیر اور برسراقتدار پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی اس کی مدافعت کررہے ہیں ۔ وزیراعظم غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چپ سادھے بیٹھے ہیں ۔ ان کی خاموشی نے بھی ماحول کو مکدر کردیا ہے ۔ کئی اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی شعور رکھنے والے یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ملک میں آج جو انداز فکر پیدا کیا جارہا ہے ، وہ ملک کے دستوری ڈھانچہ ، اس کے سیکولر کردار اور خود جمہوریت کے لئے خطرناک ہے ۔ ایک خطرہ ہے جو ملک پر منڈلا رہا ہے اور ارون جیٹلی جیسے سیاست داں اس بگڑے ہوئے ماحول کے وجود کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس پس منظر میں عدم رواداری کے خلاف مسز سونیا گاندھی کی قیادت میں ایک احتجاجی مارچ نکالا گیا ۔ اس جلوس نے صدر جمہوریہ ہند کو ایک یادداشت بھی پیش کی جس میں کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ ’’ملک میں کچھ ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جو دراصل ایک منصوبہ بند لائحہ عمل کا ہی حصہ ہیں جس کا مقصد ہندوستان کے سماج کو تقسیم کرنا ہے ۔ جس فکرمندی کا اظہار یادداشت میں کیا گیا وہ صدر جمہوریہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ انھوں نے تو متعدد مواقع پر اپنی ایسی تشویش کا اظہار کیا ہے  ۔ ان کے بار بار اظہار تشویش کے بعد ہی وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کے ایک انتخابی جلسہ میں عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ملک کے ہندو اور مسلمان دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرانے اور لڑنے کے بجائے دونوں کو متحد ہو کر ملک کی غریبی کے خلاف لڑنا چاہئے‘‘ ۔ اگر عدم رواداری کا رجحان بڑھ نہ گیا ہوتا اور رفتہ رفتہ سماج میں سرایت نہ کر گیا ہوتا  تو کیوں صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی کو کئی مرتبہ اپنی تشویش بڑے دردمند انداز میں ظاہر کرنے کی ضرورت پڑتی اور کیوں وزیراعظم مودی کو صدر جمہوریہ کے خیال سے اپنی انتخابی تقریر میں اتفاق کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی  ۔یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ ان دنوں ہندوستان میں رواداری اور مذہبی بھائی چارہ دم توڑ رہا ہے ۔ اس لئے ہر طرف یہ شور و غوغا ہے کہ ملک کو اس لعنت سے بچایا جائے ۔ اس لحاظ سے وزیر فینانس ارون جیٹلی کا یہ بیان کہ ملک میں عدم رواداری نہیں بڑھ رہی ہے ، پوری طرح سے غلط اور سراسر جھوٹ ہے ، جس کی انھیں وضاحت کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT