Tuesday , January 23 2018
Home / دنیا / عراقی وزیر کے بیٹے کے غصے پر فلائیٹ کو واپس بلانا پڑا

عراقی وزیر کے بیٹے کے غصے پر فلائیٹ کو واپس بلانا پڑا

بیروت ، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جب حکومت عراق کے وزیر ٹرانسپورٹ کے بیٹے نے پرواز چھوٹ جانے پر غصے کا اظہار کیا تو لبنان سے عراق جانے والی ایک پاسنجر فلائیٹ کو واپس موڑ دیا گیا۔ مڈل ایسٹرن ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وزیر کے بیٹے نے بغداد فون کر کے حکام سے کہا کہ جہاز کو عراق میں اترنے نہ دیا جائے۔ ایئر لائن کے مطابق جہاز کو 21 منٹ کی پرواز کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ نے واقعے کی تصدیق کی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ہوائی اڈے کی صفائی تھی۔ وزارت کے ترجمان نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے کہا کہ وزیر کے بیٹے اس پرواز پر سفر نہیں کررہے تھے۔ ترجمان کریم النوری نے کہا کہ ہوائی اڈے پر صفائی جاری تھی جس کیلئے مخصوص اقدامات کئے گئے تھے۔

’’ہم نے بغداد کے ہوائی اڈے پر صبح نو بجے کے بعد تمام پروازوں کو روک دیا تھا۔ وزیر کے بیٹے کے بارے میں ملنے والی معلومات درست نہیں ہیں اور ہمارے وزیر ایسے رویے کو برداشت نہیں کرتے۔ ان کے بیٹے اس فلائیٹ کے مسافر تھے ہی نہیں‘‘۔ تاہم ایئر لائن کے چیئرمین مروان صالحہ نے روئٹرز سے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی ’پریشان کن‘ اور ’اقربا پروری کی مثال‘ ہے۔ ادھر بغداد ہوائی اڈے کے ایک عہدہ دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ جمعرات کو ہوائی اڈے پر پروازیں معمول کے مطابق آ رہی تھیں اور ہوائی اڈے پر 30 پروازیں اتریں۔

مروان نے بتایا کہ یہ پرواز جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق 1240 پر روانہ ہونی تھی مگر وہ چھ منٹ تاخیر سے اس لئے روانہ ہوئی کیونکہ عملہ مہدی الامیری کو ڈھونڈتا رہا جو کہ وزیر ٹرانسپورٹ ہادی الامیری کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب مہدی الامیری گیٹ پر پہنچے اور انہیں معلوم ہوا کہ پرواز روانہ ہو چکی ہے تو وہ انتہائی غصے میں آگئے اور انھوں نے عملے کو دھمکی دی کہ وہ جہاز کو بغداد میں اترنے نہیں دیں گے۔ مروان کے مطابق پرواز کو بیروت واپس آنا پڑا اور اسے منسوخ کر دیا گیا جس کی وجہ سے 71 مسافروں کو متبادل ذرائع ڈھونڈنا پڑے۔ عراقی اور لبنانی حکام کے درمیان اس معاملے کو حل کرنے کیلئے رابطے جاری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT