عراق اور آئی ایس آئی ایل پر اوباماکا شاہ عبداللہ سے تبادلہ خیال

بغداد 3 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے سعودی عرب کے حکمراں عبداللہ بن عبدالعزیز السعود کو ٹیلیفون کیا اور عراق اور آئی ایس آئی ایل سے لاحق خطرہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وائیٹ ہاؤز سے جاری کردہ بیان کے بموجب آئی ایس آئی ایل یا اسلامی مملکت عراق و لیوانٹ نے عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کرکے اُن

بغداد 3 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے سعودی عرب کے حکمراں عبداللہ بن عبدالعزیز السعود کو ٹیلیفون کیا اور عراق اور آئی ایس آئی ایل سے لاحق خطرہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وائیٹ ہاؤز سے جاری کردہ بیان کے بموجب آئی ایس آئی ایل یا اسلامی مملکت عراق و لیوانٹ نے عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کرکے اُنھیں اسلامی مملکت قرار دیا ہے۔ صدر اوباما اور سعودی عرب کے حکمراں نے عراق کی تازہ ترین صورتحال اور عراق اور پورے علاقہ کے استحکام کو آئی ایس آئی ایل سے لاحق خطرہ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اوباما اور ملک عبداللہ نے عراق کے قائدین کے لئے تیز رفتار کارروائی کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ اُنھیں ایک نئی حکومت تشکیل دینی چاہئے جو عراق کے مختلف طبقات کو متحد کرسکے۔

صدر اوباما نے ملک عبداللہ کا شکریہ ادا کیاکہ اُنھوں نے تشدد کی وجہ سے بے گھر ہونے والے عراقی شہریوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ امریکی ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ دونوں قائدین نے علاقائی تبدیلیوں پر مسلسل تبادلہ خیال سے اتفاق کیا۔ دریں اثناء اعلیٰ سطحی امریکی عہدیداروں نے اہم علاقائی قائدین سے ربط پیدا کرکے اُن سے خواہش کی کہ عراق میں سیاسی انتشار کا خاتمہ کرنے میں تعاون کیا جائے۔ وزیراعظم عراق نے تائید حاصل کرنے کے لئے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نوری المالکی نے کل بغداد میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا۔ بین الاقوامی ٹیلیفون کالس کے باوجود کہ عراق کی منقسم قیادت کو فوری متحد ہوکر شورش پسندوں کا مقابلہ کرنا چاہئے کیونکہ فوج عسکریت پسندوں کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے

اور اندیشہ ہے کہ متحدہ حکومت زوال کا شکار ہورہی ہے۔ امریکہ نے علاقائی قائدین سے مدد طلب کی۔ جہاں صدر اوباما نے سعودی عرب کے فرمانروا ملک عبداللہ سے فون پر بات چیت کی، نائب صدر جوبیڈن نے عراق کی سابق پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ النجائفی سے بات کی۔ وائیٹ ہاؤز نے کہاکہ جوبیڈن اور نجائفی نے عراقیوں کے تیز رفتار سے ایسی حکومت تشکیل دینے کے اقدامات پر زور دیا جو ملک کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ دریں اثناء وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے کرد قائد مسعود برزانی سے فون پر بات کی اور زور دیا کہ کردوں کو نئی حکومت میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ دونوں نے اتفاق کیاکہ اسلامی مملکت کا اعلان کرنے والے عسکریت پسندوں سے خطرہ سے نمٹنا اہمیت رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT