Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / عراق :تل عفر و سقلاویہ ٹاؤنس پر باغیوں کا قبضہ ‘ امریکی فضائی حملے ممکن

عراق :تل عفر و سقلاویہ ٹاؤنس پر باغیوں کا قبضہ ‘ امریکی فضائی حملے ممکن

موصل / واشنگٹن 16 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے آج کہا کہ وہ عراقی حکومت کی مدد کیلئے باغیوں کے خلاف فضائی حملے کرسکتا ہے اور وہ اپنے کٹر مخالف ایران کے ساتھ مل کر کام کرسکتا ہے ۔ یہاں تخریب کاروں کی جانب سے سارے عراق میں حملے کئے جا رہے ہیں اور یہ تازہ ترین اطلاع ہے کہ عسکری گروپس نے تل عفر پر قبضہ کرلیا ہے ۔ یہ ٹاؤن شمالی عراق میں واقع

موصل / واشنگٹن 16 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے آج کہا کہ وہ عراقی حکومت کی مدد کیلئے باغیوں کے خلاف فضائی حملے کرسکتا ہے اور وہ اپنے کٹر مخالف ایران کے ساتھ مل کر کام کرسکتا ہے ۔ یہاں تخریب کاروں کی جانب سے سارے عراق میں حملے کئے جا رہے ہیں اور یہ تازہ ترین اطلاع ہے کہ عسکری گروپس نے تل عفر پر قبضہ کرلیا ہے ۔ یہ ٹاؤن شمالی عراق میں واقع ہے اور اس قبضہ کی اطلاع ٹاؤن کے مئیر اور مقامی افراد نے دی ہے ۔ عسکری گروپس کی اس پیشرفت سے حکومت کو ایک زبردست دھکہ لگا ہے کیونکہ پہلے ہی ملک کے شمالی علاقہ کا ایک بڑا حصہ حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوچکا ہے ۔ آئی ایس آئی ایل کے باغیوں نے ملک کے شمالی حصوں پر گذشتہ ہفتے سے حملے شروع کردئے تھے ۔ 1979 کے ایران انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکہ اور ایران مل کر عراق کی مدد کیلئے کارروائی کرینگے ۔ یہ اتحاد بھی تخریب کاروں کی انتہائی تیز رفتار پیشرفت کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے آج کہا کہ موجودہ حالات میں عراق کے وجود کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا امریکہ تخریب کاروں کے خلاف ایران سے تعاون کریگا جان کیری نے کہا کہ وہ کسی بھی تعمیری تبدیلی کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے ۔ فضائی حملوں کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ حملے ہی پورا جواب نہیں ہیں تاہم ان حملوں کا امکان اپنی جگہ برقرار ہے اور اہم بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام کا قتل کیا جا رہا ہے اور اجتماعی قتل عام ہو رہا ہے تو آپ کو اسے روکنا چاہئے ۔ آپ کو اسے روکنے کیلئے جو کچھ ہوسکتا ہے کرنا چاہئے چاہے اس کیلئے فضا سے کارروائی کرنی پڑے یا کچھ اور ۔

برطانیہ نے جو عراق میں جنگ کے دوران امریکہ کا واحد حلیف تھا اعلان کیا کہ اس نے حالیہ دنوں میں ایران سے رابطہ بنایا ہے ۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی ملاقات جاریہ ہفتے ہوسکتی ہے جب علیحدہ نیوکلئیر مذاکرات ہونے والے ہیں۔ علیحدہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ باغیوں نے آج سقلاویہ ٹاؤن پر بھی قبضہ کرلیا ہے جو بغداد کے جنوب میں واقع ہے ۔ یہاں انہوں نے کچھ ہتھیار بھی ضبط کرلئے ہیں۔ عینی شاہدین نے کہا کہ عارقی فوجی ہیلی کاپٹر شہر پر اڑانیں بھر رہے ہیں اور وہ فوج کو اپنے قدم جمانے میں مدد کرتے دیکھے گئے ہیں۔ آج صبح کی اولین ساعتوں میں ان باغیوں نے تل عفر پر قبضہ کرلیا تھا جہاں زیادہ تر نسلی ترک باشندے رہتے ہیں۔ تل عفر موصل سے قریبی فاصلے پر ہے اور موصل پر گذشتہ ہفتے ہی باغیوں نے قبضہ کرلیا تھا ۔ سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے کہا کہ اگر ایران ‘ عراق کی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے اس کی کچھ مدد کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے ساتھ بات کرنے تیار ہیں۔ پنٹگان نے تاہم کہا کہ ایران کے ساتھ کسی فوجی کارروائی کے سلسلہ میں مشاورت نہیں کی جائیگی ۔ پنٹگان کے پریس سکریٹری رئیر اڈمیرل جان کربی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کے بیان کا جائزہ لیا ہے ۔ ایران کے ساتھ کسی فوجی کارروائی کے مسئلہ پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی فوجی کارروائی کے تعلق سے مشاورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تاہم پڑوسیوں کی طرح ہم ایران کی بھی حوصلہ افزائی کرینگے کہ وہ عراق کی علاقائی سالمیت کا احترام کرکے اسکی مدد کرنا چاہے تو کرے ۔ کیری نے تاہم کہا کہ امریکہ کی جانب سے کسی اعلان سے قبل یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ایران کیا کرناچاہتا ہے اور کیا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو اپنے وجود کے تعلق سے خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون طیار وں سے فضائی حملے بھی امریکہ کے امکان میں شامل ہیں اور اس تعلق سے فیصلہ صدر بارک اوباما باغیوں کو پیشرفت کرنے سے روکنے کرسکتے ہیں۔ مسٹر کیری نے کہا کہ امریکہ عراق کی بحیثیت ملک سالمیت کے تعلق سے پابند عہد ہے اور امریکہ دستوری عمل کا بھی پابند رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے امریکہ کو بھی مشکلات ہیں ۔ عراق کی حکومت کو چاہئے کہ وہ حکمرانی میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرے ۔

TOPPOPULARRECENT