عراق میںطاقت کا استعمال ‘ بش کی غلطی

جمہوریت نافذ کرنے طریقہ کار دوسرا ہوسکتا تھا : دلائی لاما کا تاثر
کولکاتہ 23 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) تبت کے جلاوطن روحانی رہنما دلائی لاما نے آج کہا کہ امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش حالانکہ منکسر مزاج شخصیت تھے تاہم ان کی جانب سے عراق میں طاقت کا استعمال غلط تھا ۔ دلائی لاما 1959 میں تبت سے فرار ہوچکے تھے اور انہیں اسی سال ہندوستان میں پناہ دی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال پر انہیں ہمیشہ ہی تحفظات رہے ہیں۔ انہوں نے انڈین چیمبر آف کامرس کی جانب سے منعقدہ ایک تبادلہ خیال کے سشن میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صدر بش جونئیر حالانکہ بہت منکسر المزاج تھے اور انہیں امریکہ کے صدر ہونے کا کوئی غرور بھی نہیں تھا لیکن ان کی جانب سے عراق میں جمہوریت لانے کیلئے طاقت کا استعمال غلط تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ عراق میں جمہوریت لانا چاہتے تھے لیکن ان کا طریقہ کار غلط تھا ۔ دلائی لاما کو نوبل کا امن انعام بھی ملا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسلمانوں میں غلط پیام گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بش مسلمانوں میں مزید تعلیم کو عام کرنے اسکالرشپس وغیرہ پر مزید رقم خرچ کرسکتے تھے اور اگر ایسا کیا جاتا تو حالات اس وقت بھی بہت مختلف ہوتے تاہم ایسا نہیں کیا گیا ۔
جسٹس لویا کی موت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ : سی پی ایم
نئی دہلی 23 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی آئی ایم نے آج مطالبہ کیا کہ 2014 میں سی بی آئی عدالت کے جج ایچ پی لویا کی موت کے حالات کی اعلی سطحی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں۔ جسٹس لویا سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقات کر رہے تھے جب ان کا انتقال ہوگیا ۔ پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حال میں کچھ میڈیا اطلاعات میںکہا گیا ہے کہ جج کی موت پر اسرار حالات میں ہوئی ہے ۔ ان کے افراد خاندان نے حال میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جج کو مقدمہ کی سماعت کے دوران رشوت دینے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی ۔ سی پی ایم نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ ان کی موت کی اعلی سطح کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT