Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / عراق میں انتخابات، نوری المالکی کو سبقت

عراق میں انتخابات، نوری المالکی کو سبقت

بغداد ۔ 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عراق میں گذشتہ ماہ منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جن کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں سیاسی بلاک نے برتری حاصل کر لی ہے لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔عراق کے آزاد اعلیٰ الیکٹورل کمیشن کی جانب سے سوموار کو اعلان کردہ

بغداد ۔ 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عراق میں گذشتہ ماہ منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جن کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں سیاسی بلاک نے برتری حاصل کر لی ہے لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔عراق کے آزاد اعلیٰ الیکٹورل کمیشن کی جانب سے سوموار کو اعلان کردہ نتائج کے مطابق وزیراعظم نوری المالکی کے اسٹیٹ آف لا پارلیمانی بلاک نے اسمبلی کی 328 میں سے 92 نشستیں جیت لی ہیں اور اٹھارہ میں سے دس صوبوں میں اس نے برتری حاصل کی ہے۔شعلہ بیان نوجوان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کی قیادت میں الاحرار بلاک 36 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ بااثر شیعہ عالم دین عمارالحکیم کے الموطن بلاک نے 29 نشستیں حاصل کی ہیں اور وہ تیسرے نمبر پر رہا ہے۔سابق عبوری وزیراعظم ایاد علاوی کی قیادت میں شیعہ اور سنی جماعتوں پر مشتمل اتحاد 30 اپریل کو منعقدہ عام انتخابات میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے

اور اس نے صرف 21 نشتسیں حاصل کی ہیں حالانکہ گذشتہ انتخابات میں اس اتحاد نے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔پارلیمان کے موجودہ اسپیکر اسامہ النجیفی کی قیادت میں الاصلاح اتحاد نے 23 ،نائب صدر صالح المطلک کے العربیہ اتحاد نے 10،عراقی صدر جلال طالبانی کی جماعت کردستان وطن پارٹی نے 21 اور خودمختار کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی کردستان ڈیمو کریٹک پارٹی نے 28 نشستیں جیتی ہیں۔باقی نشستوں پر علاقائی یا دیگر چھوٹی جماعتوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔نوری المالکی کی قیادت میں اتحاد نے اگرچہ پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں اور انھیں تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے لیے دوسری شیعہ یا سنی اور کرد جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانا پڑے گا۔تاہم عراق کے اہل سنت اور کرد رہنما نوری المالکی کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور انھوں نے ان پر آمر مطلق بننے اور تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کرنے کے الزامات عاید کیے تھے جبکہ وہ ملک کے مغربی اور شمالی صوبوں میں جاری تشدد کے واقعات پر قابو پانے میں بھی ناکام رہے ہیں۔اب انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد نئی حکومت کی تشکیل میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں کیونکہ عہدوں اور وزارتوں کی بندربانٹ پر اتفاق رائے کے بعد ہی نئی کابینہ تشکیل پاسکے گی۔واضح رہے کہ ماضی میں عراق کی شیعہ ،سنی اور کرد جماعتوں کے درمیان یہ غیر علانیہ ڈیل پائی تھی کہ ملک کا وزیراعظم شیعہ کمیونٹی سے ہو گا،صدر کرد اور پارلیمان کا سپیکر سنی عرب ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT