Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / عراق میں بحران

عراق میں بحران

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
عراق میں بحران
عراق میں سیاسی اصلاحات کے اقدامات کے دوران وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنی دو سالہ حکمرانی میں کئی سخت اقدامات کئے ہیں۔ ماہ مارچ سے میڈیا پر بعض شدید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ عراق کے بڑے حصہ پر دولت اسلامیہ کے قبضہ کے بعد 2014ء میں میڈیا کی خبر رسانی پر ہنگامی پابندیاں لگانے سابق وزیراعظم نوری المالکی کے فیصلہ میں نرمی لائی گئی تھی لیکن عراق کی صورتِ حال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ حکومت کی جانب سے کوئی سخت اقدامات کئے جائیں۔ امریکہ اور قوام متحدہ نے میڈیا ہاؤزس کو بند کردینے کے خلاف اظہار تشویش کیا ہے۔ اس کے بعد عراق میں بڑے سیاسی بحران اور عوام کے احتجاجی مظاہروں سے اس ملک کی داخلی صورتِ حال کے سنگین ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ داعش کی کارروائیوں سے روزانہ ہونے والی اموات نے شہریوں کو بے چین اور اضطراب کردیا ہے۔ عوام نے سیاسی بحران اور ابتر صورتِ حال سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی پر احتجاج شروع کیا ہے تو ملک کی تمام زندگی کے تعطل کا شکار ہونے کا ثبوت ہے۔ وزیراعظم العبادی نے اصلاحات لانے کا اعلان تو کیا ہے مگر ابھی تک ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ کابینہ میں جن وزراء کو شامل کیا گیا ہے ، ان کی کارکردگی پر بھی سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ ان کی جگہ اب کابینہ میں ٹیکنو کریٹس کو شامل کئے جانے پر غور ہورہا ہے۔ حیدرالعبادی حکومت کے خلاف عوام کے اندر بڑھتے غم و غصہ کو اگر بروقت دُور نہیں کیا گیا تو گزشتہ 13 سال سے جنگ زدہ ملک میں حالات نازک ہوں گے۔ حکومت کے خلاف مظاہروں کو روکنے کے لئے وزیراعظم کو پہل کرنی ہوگی۔ عراق میں بدعنوانیوں کے خاتمہ اور سرکاری اخراجات میں کمی لانے کے لئے اصلاحات کا عمل ضروری سمجھا جارہا ہے۔ سرکاری عہدوں پر غیراہم افراد کو ذمہ داریاں دینے سے بدعنوانیوں اور بدنظمی کی شکایات عام ہوگئی ہیں۔ گزشتہ اگست میں ہی وزیراعظم نے بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے اصلاحات لانے کا اعلان کیا تھا، مگر اب تک اس پر ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اصلاحات لانے کیلئے پارلیمانی منظوری ملنا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی اقدام کو قانون کی شکل اختیار کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے مگر حکومت وقت کو ضائع کرتے ہوئے عوامی ناراضگیوں کو بڑھاوا دینے لگے تو پھر حالات ابتر ہی ہوں گے۔ امریکہ نے سال 2003ء میں عراق پر حملے کرکے یہاں کے کئی اہم تنصیبات کو تباہ کردیا تھا، اس میں عراق کا گرڈ اسٹیشن بھی بری طرح تباہ ہوا تھا۔ برقی کی قلت پیدا ہونے سے عراق عوام 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بغیر برقی کے زندگی گذارنے پر مجبور ہوگئے تو سڑکوں پر نکل آئے۔ عراق کو برقی کی شدید ضرورت ہے مگر حکومت صرف نصف عراق کو برقی سربراہ کرنے کی اہل ہے۔ اس لئے عوام کی بڑی تعداد حکومت سے ناراض اور برہم ہے۔ جب عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو یہ حالات عراق جیسے جنگ زدہ ملک کیلئے مناسب نہیں ہیں۔ عوام نے وزیراعظم حیدرالعبادی کی حکومت کو ایک ناکام حکومت قرار دیا ہے۔ عوام کے امیدوں پر پانی پھر کر حکومت کی جایء تو پھر حالات سنگین رخ اختیار کر جائیں گے۔ عراق کی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عراقی عوام کو بھی صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا۔ اگرچیکہ عراقی عوام کے مخالف حکومت احتجاجی مظاہروں کے دوران کوئی بڑا تشدد نہیں ہوا ہے۔ اس لحاظ سے عوام کا احتجاج پرامن ہی رہا۔ عوام کی اس ناراضگی کو دیکھتے ہوئے حکومت کو اپنے بدعنوان وزراء کو علیحدہ کرنے اور اصلاحات کو فوری یقینی بنانے کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ عالمی ادارہ جیسے اقوام متحدہ کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ موجودہ بحران کیلئے امریکہ کو ذمہ دار قرار دینے والوں کا یہ بھی خیال بھی غور طلب ہے کہ عراق کی معیشت پر بھی اس احتجاج کے بُرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عوام کے مفادات کو ملحوظ رکھ کر عراق کے بحران کو حل نہیں کیا گیا تو اس کے منفی اثرات دیرپا ہوں گے اور داعش کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں، وہ مزید بھیانک رُخ کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT