عراق میں بے گھر یزیدی بھوکے، پیاسے اور مایوس

دوہک (عراق)۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ کئی یزیدی خاص طور پر بچے جو جہادیوں کے شمالی عراق میں ان کے دیہاتوں پر حملہ کے بعد فرار ہوگئے تھے، اب ایک الگ تھلگ زیر تعمیر عمارت کے مقام پر پناہ لئے ہوئے ہیں جو شہر دوہک کے مضافات میں ہے، حالانکہ انھیں عراق کے خود اختیار کرد علاقہ کا تحفظ حاصل ہے، لیکن یزیدی مذہبی اقلیت کو یہ کوئی زیادہ خوشی کا مو

دوہک (عراق)۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ کئی یزیدی خاص طور پر بچے جو جہادیوں کے شمالی عراق میں ان کے دیہاتوں پر حملہ کے بعد فرار ہوگئے تھے، اب ایک الگ تھلگ زیر تعمیر عمارت کے مقام پر پناہ لئے ہوئے ہیں جو شہر دوہک کے مضافات میں ہے، حالانکہ انھیں عراق کے خود اختیار کرد علاقہ کا تحفظ حاصل ہے، لیکن یزیدی مذہبی اقلیت کو یہ کوئی زیادہ خوشی کا موقع نہیں ہے۔ ان کے چہیتے ہلاک ہوچکے ہیں۔ مکان اور تمام املاک ضائع ہوچکی ہیں۔ 4 سالہ عالیہ جو اپنے پانچ رشتہ داروں کے ساتھ یہاں پہنچی ہے، بھوک سے بلک رہی تھی جب کہ اس کی والدہ حزیقہ احمد اسے اپنے گھٹنوں پر بٹھاکر سمجھا رہی تھی۔ عالیہ اور اسکے تین بھائی بہن، والدہ اور دادا مقامی شہریوں کی فراہم کردہ چٹائی پر سورہے ہیں اور صرف روزانہ ایک وقت کے کھانے پر زندگی گزار رہے ہیں۔ انھیں کوئی طبی امداد حاصل نہیں ہے۔ بچوں کے والد نویل قاسم مراد ایک چرواہے تھے جن کا دولت اسلامیہ کے جہادیوں نے اغواء کرلیا جب کہ اس کے جنگجو عراق کے صوبہ نینوا پر 3 اگسٹ کو حملہ آور ہوئے۔ انھوں نے خاص طور پر اقلیتوں کو حملے کا نشانہ بنایا اور کئی افراد کو فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ 25 سالہ حزیقہ نے کہا کہ اس سے تو بہتر یہی ہوتا کہ اپنی قیامگاہوں پر ہمیں موت آجاتی۔

وہ پُرسکون رہنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن اخباری نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ بے ساختہ آنسو بہانے لگی۔ بچوں نے کوہِ سنجر پر سب کچھ دیکھا ہے۔ ہلاکتیں، فائرنگ، حزیقہ نے کہا کہ وہاں پر ہزاروں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ جہادی دس دن سے زیادہ عرصہ سے پہاڑ کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہمیں پہاڑ سے فرار ہونے کیلئے دس دن تک پیدل چلنا پڑا۔ وہاں پر کوئی سڑک نہیں ہے، پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔ اب ہم یہاں پہنچ چکے ہیں، حالانکہ یہاں ہماری جان محفوظ ہے، لیکن ہر چیز کھوچکی ہے۔ ہمارے گھر، ہمارے لباس، ہماری رقم، ہمارا سونا، ہر چیز کھوگئی ہے۔ جب وہ انٹرویو دے رہی تھی تو اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے کہا کہ ہم اب تک زندہ ہیں، صرف اس لئے کہ یہ اللہ کی مہربانی ہے۔ کسی نے بھی ہمیں مدد فراہم نہیں کی۔ بچے اپنے باپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ روزانہ مصائب میں اضافہ ہورہا ہے۔ کیا ہونے والا ہے؟ ہم نہیں جانتے، کیونکہ موسم سرما قریب ہے۔

تعمیری مقام پر خاندان پہلی دو منزلوں پر جو ہنوز زیر تعمیر ہیں، سورہے ہیں۔ یہ ایک پانچ منزلہ زیر تعمیر عمارت ہے۔ مقامی کرد قبائیل جو کچھ غذائی اجناس انھیں بطور عطیہ دیتے ہیں، انہی کو وہ پکاکر کھالیتے ہیں، لیکن یہ غذا ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے کافی نہیں ہے۔ بیت الخلاء نہیں ہے، دیواریں نہیں ہیں۔ پہلی منزل تک پہنچنے کے لئے لوگوں کو کمزور چوبی زینے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ حزیقہ کے 5 سالہ بیٹے لاوی کی آنکھیں سوجھی ہوئی ہیں، غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے عارضی مکان میں ہوا کے ساتھ گرد اور ریت کا طوفان مسلسل آتا رہتا ہے۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب امریکی فوج نے لڑاکا طیاروں اور ڈرون طیاروں کے ذریعہ جہادیوں پر بمباری جاری رکھی ہے تاکہ کرد افواج کی مدد کی جاسکے جو جہادیوں سے جنگ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT