Saturday , September 22 2018
Home / اداریہ / عراق میں داعش کو شکست

عراق میں داعش کو شکست

نوید سحر نے دی ہے پیمبری اُس کو
وہ اِک دیا جو اندھیرے میں ٹمٹماتا ہے
عراق میں داعش کو شکست
وزیراعظم عراق حیدر العبادی نے زائد از 3 سال کی جدوجہد کے بعد عراق میں دولت اسلامیہ ( داعش ) کے خلاف لڑائی میں کامیابی کا اعلان کیا ۔ عراق کی سرزمین کو داعش سے پاک کرنے کا عزم عراقی حکومت کے لیے ایک اہم کامیابی ہے ۔ عراق اور شام میں شدید تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاں کے بعد عراق میں اگر دولت اسلامیہ گروپ کو ختم کردیا گیا ہے تو شام میں بھی اس گروپ کے صفایا کی جاری کوششوں میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ اس طرح سرزمین عراق میں ہونے والی نمایاں تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں برسوں کی بدامنی ، خون ریزی جنگی صورتحال کے بعد امن ، خوشحالی اور ترقی کی جانب پیشرفت ہوگی ۔ عراق اور شام میں داعش کے خلاف جاری جنگ کو سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔ اگرچیکہ سعودی عرب کو بھی آئی ایس گروپ کے کئی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ داعش کے خلاف لڑائی میں کئی ملکوں کی فوج نے حکومت عراق کا ساتھ دیا ہے خاص کر امریکہ نے عراق میں داعش کے خلاف روایتی فوجی لڑائی کے بعد اپنی تائید و حمایت کو جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے ۔ اس جنگ سے تباہ ملک میں ترقی و خوشحالی کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ عراق کی تباہی کو ختم کرنے کے لیے بہت کچھ کام کرنے باقی ہیں ۔ عراقی عوام کو درپیش خطرات میں داعش کے حملے بھی شامل تھے ۔ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی داعش گروپ ایک سنگین خطرہ بنتا جارہا تھا ۔ عراقی فوج نے داعش کے آخری گڑھ کو بھی اپنے قبضہ میں لینے کی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جنگ کے کامیاب ہونے کی خوشخبری سنائی ہے ۔ عراق کی حکومت کو امریکہ ، برطانیہ کے علاوہ دیگر ملکوں کی مدد حاصل ہے ۔ عراق کے لاکھوں عوام کی زندگیوں کو خطرات سے پاک بنانے میں جس تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت تھی اس میں کوتاہی کی گئی تھی اب برسوں بعد عراق کو خون ریز کارروائیوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہے ۔ اس ملک کا سب سے بڑا بحران غذائی قلت ہے ۔ عراق کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔ معاشی سطح پر تمام عراقیوں کی توقعات پوری ہوتی ہیں تو خوشحالی یقینی ہے ۔ وزیراعظم عراق حیدر العبادی کو مبارکباد دیتے ہوئے دنیا بھر کے اہم قائدین نے اس کامیابی کو تاریخی لمحہ قرار دیا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عراق میں امن کی بحالی کے لیے تمام ملکوں کے سربراہوں کی کوشش کامیاب ہوتی ہے ۔ عراق میں کامیابی اور خوشحالی کا ایک ’ نیا باب ‘ کھلتا ہے تو یہ خوش آئند تبدیلی ہے ۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا داعش کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے کے دوران اگر اس حقیقت کو نظر انداز کردیا جائے کہ داعش کمزور ہوا ہے اس کو پوری طرح ناکامی نہیں ہوئی ہے ۔ عراق کے لیے داعش ہنوز ایک خطرہ ہی ہے ۔ اس کو شکست دینے کا دعویٰ اگر غلط ثابت ہوجائے تو عراقیوں کے لیے پہلے سے زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ برسوں کی کشیدگی اور جنگ نے عراقی عوام کی روزمرہ کی زندگی کو اجیرن بنادیا تھا ۔ عراق میں امن و امان کی بحالی کے لیے عراق اور سعودی عرب کی کوششوں کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ سعودی عرب نے عراق کے ساتھ حالیہ مہینوں میں دوستی کو مضبوط کرنے میں پیشرفت کی تھی ۔ کوویت پر 1990 میں سابق صدر عراق صدام حسین کے حملے کے بعد سعودی عرب نے عراق سے دوری اختیار کرلی تھی ۔ عراق کے لیے سعودی عرب سے دوستی اہمیت کی حامل ہے ۔ سعودی عرب سے بحران کے لیے معاشی فوائد کا حصول ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں عراق اور سعودی عرب کو تیل مارکٹ کے بڑے تاجروں کے دباؤ سے بچنے کے لیے باہمی تعاون پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ تیل مارکٹ میں سعودی عرب کو برتری حاصل ہے مگر بحران میں بڑھتے دیگر اثرات سے وہ فکر مند ہے ۔ خاص کر عراق کے امور میں ایران کی مداخلت کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے دباؤ ڈالا ہے ۔ اس خطہ میں داعش کی ناکامی کے بعد گوریلا وار کے امکانات بڑھ سکتے ہیں چونکہ جو طاقتیں سرکاری افواج کے ہاتھوں ناکام ہوتی ہیں وہ گھات لگا کر حملے کرنے کا منصوبہ تیار کرتی ہیں ۔ اب تک کی عراقی جنگ میں کافی تباہی ہوئی ہے ۔ تقریبا 3.2 ملین عوام ہنوز بے گھر ہیں اس لیے عراقی حکومت کو داعش کے خلاف اپنی جنگ کی کامیابی کا جشن منانے کے ساتھ چوکسی اور احتیاطی اقدامات پر توجہ برقرار رکھنا ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT