Friday , April 27 2018
Home / Top Stories / عراق میں 3 سال پہلے اغوا 39 ہندوستانیوں کی موت کی تصدیق

عراق میں 3 سال پہلے اغوا 39 ہندوستانیوں کی موت کی تصدیق

تمام باقیات کی ڈی این اے جانچ ، پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ کا بیان ،حقیقت چھپانے سشما سوراج پر کانگریس کا الزام

نئی دہلی۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ عراق کے موصل سے اگست 2014 میں اغوا 39 ہندوستانیوں کی موت ہو چکی ہے اور حکومت ان کے باقیات کو لائے گی۔ سوراج نے راجیہ سبھا میں اپنے بیان میں کہا کہ سبھی باقیات کی ڈی این اے جانچ سے کل اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ساڑھے تین سال سے لاپتہ 39 ہندوستانیوں کی موت ہو چکی ہے۔ مرنے والوں میں 31 پنجاب، چار ہماچل پردیش اور باقی بہار اور مغربی بنگال کے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت جنرل وی کے سنگھ عراق جائیں گے اور مرنے والوں کے باقیات کو طیارے سے وطن لائیں گے۔ یہ طیارہ سب سے پہلے امرتسر جائے گا جہاں پنجاب اور ہماچل پردیش کے لوگوں کے باقیات کو ان کے اہل خانہ کو سپرد کرے گا۔ اس کے بعد یہ طیارہ پٹنہ اور کولکتہ جائے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ لاپتہ ہندوستانیوں کا پتہ لگانے کا کام بہت پیچیدہ تھا لیکن یہ عراقی حکومت، وزیر اعظم نریندر مودی اور حکام کے تعاون سے ممکن ہو سکا ہے۔ انہوں نے اس کے لئے عراقی حکومت، نریندر مودی اور جنرل وی کے سنگھ کی ستائش کی۔سشما نے کہا، 27 جولائی کو راجیہ سبھا میں بحث کے دوران میں نے کہا تھا کہ جب تک کوئی بھی ثبوت نہیں مل جاتا، میں ان کے قتل یا موت کا اعلان نہیں کروں گی۔ لیکن آج وہ وقت آ گیا ہے۔ ہرجیت مسیح کی کہانی سچی نہیں تھی۔ “واضح رہے کہ عراق میں کام کر رہے ایک باورچی نے ہندستانیوں کے اغوا ہونے کی جانکاری وزارت خارجہ کو دی تھی۔سشما سوراج کے مطابق انہیں کیٹرر (باورچی) سے پتہ چلا کہ آئی ایس آئی ایس نے ان 40ہندستانیوں کو پکڑ لیاتھا پہلے انہیں کپڑا فیکٹری میں رکھا گیا۔ وہاں سے بنگلہ دیشی مزدوروں کو الگ کر کے انہیں اربیل شہر بھیج دیا گیا۔وزارت خارجہ کے مطابق کیٹرر نے بتایا کہ ایک شخص نے خود کو علی بتاتے ہوئے فون کیا۔ اس نے کہا کہ وہ بنگلہ دیشی ہے اور اسے آئی ایس آئی ایس کے حکم کے مطابق بنگلہ دیش بھیجا جانا چاہئے۔

سشما نے بتایا کہ ہرجیت مسیح نے انہیں اربیل سے فون کیا تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ وہاں کیسے پہنچا۔ وہ کیٹرر کے ذریعے لائی گئی وین میں خود کو بنگلہ دیش کا مسلم شہری علی بتا کر بچ نکلا۔سشما سوراج نے آگے بتایا کہ “اگلے دن گنتی ہونے پر ایک ہندستانی کم ملا تو آئی ایس آئی ایس نے سبھی اغوا ہندستانیوں کو بدوش بھیج دیا”۔انہوں نے بتایا کہ موصل سے آئی ایس آئی ایس کے صفایے کے بعدخارجی امور کے وزیر مملکت وی کے سنگھ لا پتہ ہندستانیوں کی تلاش میں وہاں گئے۔کپڑا فیکٹری اور کیٹرر سے سراغ ملنے کے بعد سنگھ عراق میں ہندوستانی سفیر اور ایک عراقی افسر کے ساتھ بدوش کی جیل بھی گئے۔لاپتہ ہندستانیوں کی تلاش کی تمام کوششوں کے لئے خارجی امور کے وزیر مملکت وی کے سنگھ کی سراہنا کرتے ہوئے سشما نے کہا کہ بدوش میں تینوں کو کھوج کے دوران ایک چھوٹے سے مکان میں زمین پر سونا پڑا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ مقامی لوگوں سے اجتماعی قبر کا پتہ چلا۔ جہاں سے نعشیں کھودکر نکالی گئیں اور مارٹایرس فاؤنڈیشن سے ان کی ترجیحی بنیادپر ڈی این اے جانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزارت خارجہ نے نعشوں کا پتہ لگانے کیلئے ڈیپ پینی ٹریشن رڈار مہیا کرانے ، نعشوں کو کھود کر نکالنے اور ڈی این اے جانچ کیلئے انہیں بغداد بھیجنے میں ساتھ دینے کیلئے عراقی افسران کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ خارجی امور کے وزیر مملکت وی کے سنگھ خصوصی طیارے سے ہلاک ہونے والوں کے باقیات کو ہندستان لانے کیلئے عراق جائیں گے۔ ان باقیات کو پہلے پنجاب لایا جائے گا۔ مارے گئے ہندستانیوں میں سے 31پنجاب کے اور 4 ہماچل پردیش کے تھے۔پنجاب،ہماچل پردیش کے بعد طیارہ پٹنہ اور پھر کولکاتہ جائے گا۔ سشما نے کہا کہ ثبوت حاصل کرنا کافی مشکل تھا۔ ایک بے رحم دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس ، اجتماعی قبریںاور نعشوں کے ڈھیر تھے۔ان میں سے کئی لوگوں کی نعشوں کا پتہ لگانا انہیں جانچ کیلئے بغداد بھیجنا آسان نہیں تھا”۔دریںاثناء کانگریس رکن رپارلیمنٹ ششی تھروور نے مہلوکین کے ارکان خاندان کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ مذکورہ صورتِ حال سے ارکان خاندان کو واضح طور پر واقف کراتی۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم اس معاملے میں حکومت کو ایمان داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا ۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فوڈ پروسیسنگ کے وزیر اور اکالی دل رہنما ہرشمت کور نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختانہ بات ہے کہ کانگریس اس انتہائی اندوہناک واقعہ پر بھی سیاست کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT