Wednesday , December 19 2018

عراق کا شہر موصل

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں دہشت گردوں کی کارروائیوں نے امریکی زیرنگرانی ملک عراق کی سیکوریٹی صورتحال کی ابتری کو واضح کردیا ہے۔ دہشت گردوں نے سارے شہر کو اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے تو افسوسناک امر یہ ہیکہ فوج اور پولیس کا عملہ بھی اپنی جان بچا کر بھاگ کھڑا ہوگیا۔ عوام کی اکثریت شہر کا تخلیہ کرچکی ہے۔ تقریباً 5 لاکھ شہری محفوظ مقام کو منتقل ہورہے ہیں۔ عراق کا شہر موصل میں سنی عرب اکثریت مقیم ہے۔ روایتی طور پر یہ شہر معزول صدر صدام حسین کی عراقی فوج کے وفاداروں کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ فوج میں شامل کئی سپاہیوں کے ارکان خاندان مقیم ہیں۔ صدام حسین کی سلامتی پر تعینات دفاعی عہدیدار اس علاقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے اس شہر پر امریکی فوج کا کنٹرول رہا تھا۔ بغداد انتظامیہ کی زیرنگرانی اس شہر کو بعد کے دنوں میں بتدریج غیرمستحکم بنادیا گیا۔

2004ء میںبھی یہاں دہشت گردوں نے اپنا قبضہ حاصل کرلیا تھا لیکن امریکی فوج کی 3 روزہ کارروائی کے بعد موصل کو دہشت گردوں سے آزاد کرالیا گیا تھا مگر اس مرتبہ سیکوریٹی فورسیس اور پولیس بھی دہشت گردوں کے غیض و غضب کی کارروائی میں ہتھیار ڈال کر راہ فرار ہوگئے ہیں تو یہ سیکوریٹی کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ دریائے دجلہ کے کنارے واقعہ یہ شہر کردش اضلاع سے متصل ہے۔ شہر چھوڑنے والے مرد و خواتین نے اپنی جان بچانے کیلئے پڑوسی علاقوں میں پناہ لی۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کو القاعدہ کی شاخ بتایا جاتا ہے۔ شہر کے گورنر بھی اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے ہیں تو شہریوں کی حفاظت غیریقینی کیفیت سے دوچار ہوگئی تھی۔ جس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے دراصل وہ دولت اسلامیہ فی العراق والشام سے مشہور ہے۔ اس نے موصل پر کئی ماہ سے غیر رسمی کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ اس کے خلاف مقامی سیکوریٹی اور بغداد کے انتظامیہ نے کوئی مقدس فوجی کارروائی نہیں کی۔ وزیراعظم عراق نور المالکی نے موصل میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی پہل کی ہے مگر موصل کی صورتحال سنگین ہے۔ یہ پورے عراق کیلئے خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔ امریکہ نے اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعہ جن اسلامی شدت پسندوں کو مجتمع ہوکر ایک مضبوط طاقت بننے کا موقع رہا تھا آج اس کے نتیجہ میں امریکہ کے بشمول تمام عراق کیلئے یہ صورتحال سنجیدہ نہیں ہوگی۔ موصل میں شدت پسندوں کے قبضہ نے امریکہ کی فوجی طاقت پر بھی سوال اٹھا دیا ہے۔ اب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے کردش کی علاقائی حکومت سے تعاون حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ آئی ایس آئی ایس تنظیم نے موصل کے تمام سرکاری عمارتوں کو اپنے کنٹرول میں لینے میں کامیابی حاصل کی ہے تو اس وقت مقامی سیکوریٹی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ تنظیم کے ارکان نے سرکاری عمارتوں کے پرچم پر اتار دیئے ہیں۔ ان کی اس کارروائی کیساتھ یہ اعلان بھی عالمی طاقتوں کے لئے غور طلب ہے کہ وہ موصل کو مغربی تسلط سے آزاد کرانے کیلئے آئے ہیں۔ موصل کے متعدد پولیس اسٹیشنوں کو آگ لگا دینا سیکوریٹی کے ناقص انتظامات کی زندہ مثال ہے۔ سینکڑوں قیدیوں کو رہا کرالینے سے عراق کے دیگر شہروں کی سلامتی پر حکومت کو فکر کرنا ضروری ہوگیا ہے

۔ شدت پسندوں کے سامنے فوج کا ہتھیار ڈال کر یونیفارم تبدیل کرکے عام شہریوں میں مل جانا بھی خودغرضی کی خراب مثال ہے۔ موصل کے بعد یہ آئی ایس آئی ایس گروپ تکریت شہر کو بھی اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے جہاں سنی مسلمانوں کی آبادی ہے۔ بغداد تک رسائی کے لئے یہ گروپ اپنی کارروائیوں کو تیز کرسکتا ہے۔ شہر میں جہاں شیعہ، سنی آبادیوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے، خون ریزی کے واقعات ہوئے ہیں تو ایک مسلم ملک میں خونی کارروائیاں افسوسناک ہوں گی۔ عراق کے اندر ہونے والی یہ کارروائی ساری دنیا کے لئے خاص عالمی طاقتوں کے لئے صدمہ خیز ہوگی کیونکہ بڑی طاقتوں نے مل کر ہی عراق کے عوام کو ایک پرسکون زندگی فراہم کرنے 2003ء میں امریکی جنگ کا ساتھ دیا تھا مگر اس روز سے آج تک عراقیوں کو کہیں پر سکون فراہم نہیں کیا گیا۔ القاعدہ کا خاتمہ کرنے کا دعویٰ کرنے والی مغربی طاقتیں حیران ہوچکی ہیں کہ اس گروپ سے وابستہ ارکان نے موصل شہر کو اپنے کنٹرول میں لے کر عالمی سیکوریٹی کے بلند دعوؤں کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ شورش پسندوں کا خاتمہ کرنے کیلئے جاری برسوں کی لڑائی کا انجام اگر یہی ہے تو پھر عوام الناس کی جان و مال کی تباہی کیلئے یہی عالمی طاقتیں ذمہ دار کہلائیں گی۔ اس تنظیم کا اہم منصوبہ عراق اور پڑوسی ملک شام کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینا ہے۔ عراق کے مغربی علاقہ کے ایک اور شہر فلوجہ پر بھی اس سال کے اوائل میں اسی گروپ نے قبضہ کرلیا تھا اور سرکاری فورس اس شہر کو اب تک اپنے کنٹرول میں لینے کیلئے محاذ آراء ہے۔ موصل پر شورش پسندوں کا دوبارہ قبضۃ امریکی حمایت والی حکومت اور وزیراعظم نورالمالکی کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان کی مشتبہ زیرقیادت حکومت کیخلاف بڑھتی ناراضگی عراق کو پھر ایک بار جنگ کے ماحول میں ڈھکیل دے گی۔ حکومت کی بے بسی کئی خرابیاں پیدا کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT