Tuesday , December 18 2018

عراق کو امریکہ کی تائید‘ لیکن فوج کی روانگی سے گریز

مشرق وسطیٰ امن منصوبہ منصفانہ اور متوازن بنانے پر وزیر خارجہ امریکہ جان کیری کا زور

مشرق وسطیٰ امن منصوبہ منصفانہ اور متوازن بنانے پر وزیر خارجہ امریکہ جان کیری کا زور
یروشلم۔ 5؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے آج کہا کہ امریکہ القاعدہ سے مربوط عسکریت پسندوں کے خلاف جدوجہد میں عراق کی تائید کرے گا جنھوں نے ملک کے مغرب میں کئی شہروں پر قبضہ کرلیا ہے، لیکن کہا کہ امریکہ اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی جنگ ہے۔ جان کیری نے یہ تبصرہ اردن اور سعودی عرب کے سفر پر روانہ ہونے سے قبل یروشلم میں کیا۔ امکان ہے کہ امن مذاکرات پر اِسلامی مملکت عراق کا منفی اثر مرتب ہوگا۔ اپوزیشن نے فلوجہ اور رمضی پر قبضہ کرلیا ہے۔ رمضی صوبہ عنبر کا صدر مقام ہے اور امریکہ زیر قیادت جنگ میں سنی شورش پسندوں کا مستحکم گڑھ رہ چکا ہے۔ القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے گزشتہ ہفتہ دونوں شہروں پر قبضہ کرلیا تھا اور اُسی وقت سے سرکاری افواج کی مزاحمت جاری ہے۔ جان کیری نے کہا کہ امریکی صحافیوں کو عراق میں خانۂ جنگی پر بے انتہا تشویش ہے۔ انھوں نے باہم جنگ کرنے والے فریقین کو انتہائی خطرناک علاقائی طاقتیں قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ حکومت عراق کی تائید کرے گا

تاکہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کو شکست دی جاسکے۔ ہم اس کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے، تاہم انھوں نے مدد کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔ جان کیری نے کہا کہ یہ عراقیوں کی لڑائی ہے اور امریکہ نہیں چاہتا کہ امریکی فوجی اس میں ملوث ہوں۔ عمان سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے عمان روانگی سے قبل کہا کہ وہ یہ امن معاہدہ کے لئے اپنی کوششوں میں شدت پیدا کرچکے ہیں، جیسا کہ ختم اپریل تک قطعی آخری مہلت سے دونوں فریقین نے اتفاق کرلیا تھا، لیکن بعد ازاں دونوں فریقین نے ناقابل مفاہمت مطالبے کرتے ہوئے اٹل موقف اختیار کرلیا۔ جان کیری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ تمام فریقین کو تیقن دیتے ہیں کہ صدر امریکہ بارک اوباما اور خود وہ (جان کیری) ان نظریات کو جو منصفانہ اور متوازن ہیں، پیش کرنے کے پابند ہیں تاکہ اس علاقہ کے تمام عوام کی صیانت بہتر بنائی جاسکے۔ انھوں نے اسرائیلی اور فلسطینی قائدین پر زور دیا کہ پائیدار امن قائم کرنے کے لئے سخت فیصلے کریں، کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ صورتِ حال برقرار ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج ہم مذاکرات کی میز پر اسی لئے موجود ہیں تاکہ مسئلہ کی یکسوئی کی جاسکے۔ نتن یاہو اور محمود عباس دونوں کو مذاکرات جاری رکھنے کے لئے کچھ سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ واضح طور پر انتخاب کے مواقع حقیقی ہیں، تاہم مشکل بھی ہیں، لیکن امن کی بحالی کی کچھ قیمت بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔ امن معاہدہ ان تمام مسائل کی یکسوئی کرے گا جن کے بارے میں فریقین میں اختلاف پایا جاتا ہے، جیسے آئندہ کی مملکت فلسطین، پناہ گزین، یروشلم کا حشر، کیونکہ دونوں فریقین اس کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں، صیانت اور ایک دوسرے کو تسلیم کرنا، وغیرہ۔ جان کیری نے پرزور انداز میں کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ اس کے باوجود کہ دونوں فریقین کے درمیان سخت تلخی اور تعصب پایا جاتا تھا اور دونوں کے مطالبات ناقابل مفاہمت تھے۔ اسکے باوجود ایک امن معاہدہ کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پوری شدت کے ساتھ امن معاہدہ پر دستخط کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ گزشتہ دو دن کے دوران بات چیت میں کافی پیشرفت ہوچکی ہے اور امن معاہدہ طئے پانے کے امکانات روشن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT