Tuesday , December 11 2018

عراق کی اجتماعی قبر سے 39 مغویہ ہندوستانیوں کی نعشیں برآمد

New Delhi: External Affairs Minister Sushma Swaraj speaks in the Lok Sabha during the second phase of the Budget Session, at Parliament House in New Delhi on Tuesday. Swaraj said that 39 bodies exhumed from a mount in Badoosh in Iraq have been identified as those of Indians and will be brought back to India on a special plane. PTI Photo / TV GRAB(PTI3_20_2018_000102B)

ہندوستانی سوگوار خاندانوں کے غم میں شریک : وزیراعظم ، دولت اسلامیہ کے یرغمال اور ان کے ہاتھوں ہلاک ہونے کا انکشاف ، پارلیمنٹ میں سشما کا بیان

نئی دہلی 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ تمام ہندوستانی 39 ہندوستانیوں کے موصل میں قتل کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔ حکومت بیرونی ملک ہندوستانیوں کی حفاظت کا تیقن دیتی اور اس کی پابند عہد ہے ۔قبل ازیں وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج کہاکہ عراقی شہر موصل میں تین سال قبل دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کی طرف سے اغواء شدہ تمام 39 ہندوستانی فوت ہوچکے ہیں اور ان کی نعشیں برآمد کی جارہی ہیں۔ سشما سوراج نے راجیہ سبھا میں اس ضمن میں ازخود بیان دیتے ہوئے کہاکہ فوری طور پر اگرچہ یہ علم نہیں ہوسکا ہے کہ ان ہندوستانیوں کو کہاں ہلاک کیا گیا تھا لیکن ان کی نعشیں موصول کے شمال مغرب میں واقع گاؤں بدوش کی ایک اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی ہیں اور ڈی این اے معائنوں کے ذریعہ ان کی شناخت کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بدوش کی ایک اجتماعی قبر سے باقیات نکالی گئی ہیں جو ایک خصوصی طیارہ کے ذریعہ ہندوستان لائی جائیں گی جہاں اُن کے ورثاء کے سپرد کردی جائیں گی۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ’’میں کہہ چکی تھی کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی کی موت کا اعلان نہیں کروں گی … اور آج میں اپنا وعدہ پورا کرنے (ایوان میں) آئی ہوں‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’’میں نے کہا تھا کہ پورے ثبوت کے ساتھ کھوج بند کی جائے گی اور ہم انتہائی دل برداشتگی کے ساتھ مہلوکین کے ورثاء کو یہ باقیات سپرد کریں گے۔ جس کے ساتھ یہ فائیل ازخود بند ہوجائے گی‘‘۔

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر 2014 ء میں اپنے قبضہ کے دوران آئی ایس آئی ایس نے 40 ہندوستانیوں کے ایک گروپ جس میں اکثر پنجابی تھے کے علاوہ چند بنگلہ دیشیوں کو یرغمال بنالیا تھا۔ ان 40 ہندوستانیوں کے منجملہ ایک یرغمال ہرجیت مسیح جس کا تعلق گرداسپور سے تھا، خود کی ایک بنگلہ دیشی مسلمان کی حیثیت سے غلط شناخت بتاتے ہوئے داعش کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ سشما سوراج نے کہاکہ ہرجیت مسیح کا واقعہ ’’مرغ اور بیل کی کہانی‘‘ جیسا ہے۔ وہ بنگلہ دیش کے ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنی غلط شناخت بتاکر رہائی حاصل کی تھی۔ ان ہندوستانیوں کو موصل کی ایک ٹکسٹائیل فیکٹری میں رکھا گیا تھا۔ ہرجیت کے رہا ہونے کے بعد اُنھیں بدوش کے قید خانہ کو منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی انتھک تلاش بالآخر بدوش کی ایک اجتماعی قبر پہونچائی جہاں گہرائی کی واضح تصویرکشی کرنے والے راڈر کو ایک بڑی چٹان کے نیچے مدفون نعشوں کی شناخت کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ عراقی حکام کی مدد سے نعشیں نکالی گئیں۔

جس کی مخصوص شناخت علامات جیسے لمبے بال، ہاتھ میں کڑا، غیر عراقی جوتے اور شناختی کارڈس وغیرہ پائے گئے۔ بعدازاں ڈی این اے معائنہ کے لئے یہ نعشیں بغداد منتقل کی گئیں۔ حکومت کو گزشتہ روز مطلع کیا گیا کہ 38 ہندوستانیوں کے ڈی این اے دستیاب نعشوں کے مماثل پائے گئے ہیں اور ایک نعش کی ڈی این اے سے 70 فیصد مماثلت پائی گئی ہے۔ سشما سوراج نے قبل ازیں یہ ادعا کیا تھا کہ اغواء شدہ ہندوستانیوں کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر مردہ یا متوفی قرار نہیں دیا جائے گا۔ انھوں نے کہاکہ اب ثبوت دستیاب ہوچکا ہے۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ موصل پر داعش کے قبضے کے بعد اکثر عراقی اس شہر سے فرار ہوچکے تھے لیکن ہندوستانی اور بنگلہ دیشی ورکرس بدستور اُس علاقہ میں مقیم تھے۔ کیٹرنگ ادارہ سے تحقیقات پر انکشاف ہوا کہ ان ہندوستانیوں کو کھانے کے بعد واپسی کے موقع پر داعش جنگجوؤں نے پکڑ لیا تھا۔ اُنھیں پہلے ایک ٹکسٹائیل فیاکٹری لایا گیا بعدازاں اربیل منتقل کیا گیا۔ سشما سوراج نے کہاکہ ہرجیت مسیح نے اُنھیں اربیل سے فون کیا تھا لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ وہ وہاں کیسے پہونچا تھا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ’’وہ اپنا نام علی بتاتے ہوئے بنگلہ دیشیوں کو اربیل منتقل کرنے والی کیٹرنگ ویان میں بیٹھ کر روانہ ہوا تھا‘‘۔ سشما سوراج نے کہاکہ ’’(ہلاکتوں کا) ثبوت حاصل کرنا انتہائی دشوار کن اور پیچیدہ کام تھا۔ (داعش) ایک ایسی بربریت انگیز تنظیم ہے۔ وہاں اجتماعی قبریں تھیں جہاں نعشوں کے انبار تھے۔ ہمارے افراد کی نعشیں تلاش کرنا اور اُنھیں بغداد لیجانا ایک نازک اور سخت مشکل کام تھا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT