Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / عراق کی سب سے بڑی تیل ریفائنری پر جہادی حملہ

عراق کی سب سے بڑی تیل ریفائنری پر جہادی حملہ

کرکک( عراق) ۔12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے بائیجی تیل ریفائنری پر جو عراق کی سب سے بڑی ریفائنری ہے خودکش حملہ کئے ۔ جہادی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تیل ریفائنری میں زبردست داخل ہوگئی لیکن عراقی فوج کا کہنا ہے کہ یہ مقام جہاں قبل ازیں کئی خوفناک جنگیں دولت اسلامیہ کے گذشتہ سال پورے علاقہ پر غلبہ پانے کے بعد

کرکک( عراق) ۔12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے بائیجی تیل ریفائنری پر جو عراق کی سب سے بڑی ریفائنری ہے خودکش حملہ کئے ۔ جہادی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تیل ریفائنری میں زبردست داخل ہوگئی لیکن عراقی فوج کا کہنا ہے کہ یہ مقام جہاں قبل ازیں کئی خوفناک جنگیں دولت اسلامیہ کے گذشتہ سال پورے علاقہ پر غلبہ پانے کے بعد لڑی گئیں ہیں ‘ ا س کے قبضہ میں ہے ۔ آج داعش نے بائیجی تیل ریفائنری پر حملہ کیا ۔ صوبہ صلاح الدین کے ایک میجر جنرل نے کہا کہ بائیجی تیل ریفائنری پر تیل حملہ کیا گیا ہے ۔ بائیجی صوبہ صلاح الدین میں ہی واقع ہے ۔ انہوں نے ریفائنری پر حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریفائنری بعداد سے 200کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور چند ماہ قبل اس کا محاصرہ توڑ دینے کے بعد یہاں خوفناک ترین جنگیں لڑی گئی ہیں ۔

فوج کے عہدیدار اور دیگر فوجی ذرائع نے کہا کہ حملہ کا آغاز 7بجے صبح ہوا ‘ جس کے نتیجہ میں جھڑپیں ہوئیں ۔ میجر جنرل نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے تین ریفائنری کے ملازمین کو رہائشی عمارت کے مغربی حصہ میں منتقل کردیا ۔ یہ سب سے چھوٹا کارخانہ ہے جہاں مشرق سے حاصل ہونے والی اشیاء کا نچوڑ حاصل کیا جاتا ہے ۔ تین خودکشی حملے کرنے کے بعد عسکریت پسند ریفائنری کے باب الدخلہ تک پہنچ گئے ۔ ان میں سے دو ہلاک کردیئے گئے لیکن ایک نے خودکو دھماکہ سے اُڑا دیا ۔ فوجی عہدیدار کے بموجب عراقی فوج جو ریفائنری کا تحفظ کررہی تھی باب الداخلہ پر دوبارہ اپنا قبضہ بحال کرنے میں کامیاب ہوگئی اور پوری ریفائنری اب حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ دولت اسلامیہ نے تصویریں شائع کی ہے جن میں دکھایا گیا ہے کہ ان کی ہموی کاروں کا قافلہ ریفائنری کے اطراف حملے کررہا ہے

اور جنگجو واضح طور پر ریفائنری کی حدود کے اندر داخل ہوگئے ہیں ۔ فوجی عہدیدار نے کہا کہ 20جہادی جنگجو عراقی فضائیہ کے حملوں میں ہلاک ہوگئے ‘ حالانکہ تعداد کی توثیق نہیں کی جاسکی ۔ داعش یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے لیکن درحقیقت انہیں شکست ہوچکی ہے اور وہ پیشرفت کے موقف میں نہیں ہے ۔دولت اسلامیہ کے گروپ نے بڑے پیمانے پر جون میں شمال مغربی عراق میں جارحانہ کارروائی کا آغاز کیا تھا اور ملک کے بیشتر سنی عرب علاقہ پر چند ہی دنوں میں قبضہ کرلیا تھا ۔ انسداد دہشت گردی اور دیگر افواج کو اہم ریفائنری کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ریفائنری کئی مہینوں تک محاصرہ میں رہ چکی ہے ۔ عراقی کارروائی کی مدد فضائی حملوں کے ذریعہ کی جارہی تھی جو امریکہ زیرقیادت اتحاد کررہا تھا ۔ آخر کار اکٹوبر میں محاصرہ چھوڑ دیا گیا اور شہر پر تیل ریفائنری کے جنوب میں قبضہ کرلیا گیا ۔ جہادی اسی وقت سے اس شہر پر دوبارہ قبضہ کیلئے سخت جدجہد کررہے ہیں ۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں تکریت پر فتح حاصل کرنے کے بعد سرکاری افواج کو یہ بار پھر اس پر اپنا قبضہ بحال کرنا پڑا جب کہ وہ شمال کی سمت دولت اسلامیہ کے مرکز موصل کی جانب پیشرفت کررہے تھے ۔ بائیجی ریفائنری سے کبھی 3لاکھ بیرل تیل پیدا کیا جاتا تھا اور روزآنہ اس کو صاف کر کے پٹرولیم مصنوعات تیار کی جاتی تھی جو ملک کی ضروریات کی 50فیصد کی تکمیل کرتی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT