Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / عربی و حجابی سے نفرت

عربی و حجابی سے نفرت

پہلے کچھ لوگ فرشتے بھی ہوا کرتے تھے
اب تو سب ہوگئے شیطان یہ دیکھا تم نے
عربی و حجابی سے نفرت
امریکہ میں مسلمانوں پر کڑی نظر رکھنے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سینڈرس، ٹیڈکروز کی شرانگیز تقاریر کے بعد امریکی مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ماحول کو ہوا دینے والے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ دنوں امریکی ایرلائنس نے ایک مسلم جوڑے کو طیارہ سے اتار دیا تھا۔ اس طرح کے ایک اور واقعہ میں حجاب پوش مسلم خاتون کو ساوتھ ایسٹ ایرلائنز نے طیارہ سے اتار دیا۔ مخالف مسلم واقعات کو بڑھاوا دیتے ہوئے ایک ایسی فضاء قائم کی گئی ہے جس میں امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے باقاعدہ کارروائی کی جارہی ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصہ میں کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تو اس کے فوری بعد امریکہ میں مسلمانوں کیلئے شکوک و مشکل حالات رونما ہوتے ہیں۔ بلجیم اور پیرس میں حملوں کے بعد امریکہ میں مخالف مسلم لہر کو ہوا دی گئی جبکہ یوروپ میں مخالف مسلم ریالیاں نکال کر مسلم طبقہ کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ امریکہ میں مسلمانوں کو شدید مخالفت کا سامنا ہے اور بے چینی کی فضاء ایک ایسے وقت پیدا کی جارہی ہے جب امریکہ میں اہم صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔ ایسی مخالف مسلم کارروائیوں سے انتخابی نتائج کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔ بروسلز حملہ کے دن ری پبلکن صدارتی امیدوار ٹیڈکروز نے کہا تھا کہ امریکہ کو لا انفورسمنٹ پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس تجویز کی حمایت کی تو صدر امریکہ بارک اوباما نے اسے ’’غلط اور غیرامریکی‘‘ خیال قرار دے کر مسترد کردیا۔ امریکہ میں مخالف اسلام جذبات کو ہوا دینے میں سیاسی کھیل کا اہم رول رہا ہے۔ امریکہ کے مسلمانوں میں ہنوز عدم تحفظ کا احساس ہے ان کے اندر خوف پایا جاتا ہے اور وہ موجودہ سیاسی فضاء کو اپنے لئے خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ مسلم حجاب کرنے والی خواتین کو تنگ کرنے ان کے حجاب کو اتارنے کی کوشش کرنے کے واقعات عام ہورہے ہیں۔ انہیں دہشت گرد قرار دینے میں ایک لمحہ کی بھی مہلت ضائع نہیں کی جاتی۔ اسکولوں میں بھی مسلم طلباء کو اپنی ٹیچرس سے دہشت گردی کا طعنہ سننا پڑ رہا ہے۔ عراقی طالب علم کو امریکی طیارہ سے محض اس لئے اتارا گیا کیونکہ اس نے عربی میں بات چیت کی تھی۔ ایک اور عراقی سائنسداں پروفیسر حسن ویورشی کو عربی میں میسیح لکھنے پر جہاز میں موجود خاتون نے شکایت کرکے آف لوڈ کروادیا۔ وہ ویانا سے لندن جارہے تھے۔ سرکردہ پروفیسر اور کیمسٹری کے سائنسداں کے ساتھ موبائیل فون پر عربی متن لکھنے کی پاداش میں امتیازی اور نسلی سلوک کیا جاتا ہے تو اس طرح کے واقعات مسلمانوں کو بدنام اور رسواء کرنے کی نیت سے دوہرائے جارہے ہیں اور یہ حرکتیں اس وقت تک جاری رہیں گی تاوقتیکہ سخت قوانین نافذ کئے جائیں۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیاز اور نفرت پیدا کرنے والے واقعات کا تدارک کرنے کیلئے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ سخت ترین کارروائیوں کا انتباہ دیں۔ مسلم ملکوں کے سربراہوں کی بھی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ دنیا بھر میں آئے دن ہونے والے مسلم مخالف واقعات کا سخت نوٹ لے کر متعلقہ ملک کے سربراہان مملکت سے نمائندگی کریں۔ آج ساری دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہورہی ہے تو اس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانے کیلئے حکمرانوں سے تعاون حاصل کیا جانا چاہئے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے عالمی معاہدوں اور تجارتی امور کو فروغ دینے کے اقدامات کو مسلمانوں کے تحفظ اور مخالف مسلم نفرتوں کو ختم کرنے کے تابع بنایا جائے۔ اگر مسلم دنیا کے طاقتوں حکمراں تہیہ کرلیں کہ جہاں کہیں بھی مسلم مخالف کارروائی ہوتی ہے اس کا سخت نوٹ لیا جائے گا اور جس ملک اور ریاست میں مسلمانوں کو ستایا جارہا ہے وہاں کی برسراقتدار جماعت اور سیاسی قائدین کے ساتھ وہاں کے قانون اور عالمی اصولوں کے حوالے سے بات چیت کرکے مسلم نفرت کا بیج بونے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی پالیسی وضع کرائی جائے۔ مسلم ممالک کو ہی آگے آنے کی ضرورت ہے۔ اسلام فوبیا کے شورشرابے میں ایک حساس سوال ابھر کر آیا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے آخر خود پر بے حسی طاری کیوں کرلی ہے ان کی یہ بے حسی بار بار کے مسلم دشمنی کے تلخ تجربات کے باوجود کم کیوں نہیں ہورہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہیکہ فضائی سفر کرنے والے مسلمان مسافروں کو سفری تحفظ فراہم کیا جائے۔ جن مغربی اور یوروپی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضاء کو ہوا دی جارہی ہے ان ممالک کو عالمی فورم کے ذریعہ تاکید کردی جائے۔ کیا مسلم حکمراں ایسی ہمت اور حوصلہ کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT