Monday , April 23 2018
Home / ہندوستان / عرب امارات میں ہندوستانی اجنبی نہیں‘ یکسا ں سہولیتیں میسر

عرب امارات میں ہندوستانی اجنبی نہیں‘ یکسا ں سہولیتیں میسر

امارات کے سفیر احمد البنا نے انقلاب سے خصوصی گفتگو میں کہا’ دونوں ممالک کے درمیان رشتے نئی بلندیوں کوچھورہے ہیں
نئی دہلی۔ گذشتہ ڈھائی سالوں میں وزیراعظم نریندر مودی کے متحد ہ عرب امارات( یواے ای) کے دوسرے ورہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تقریبا ایک درجن سے زائد معاہدوں اور سمجھوتوں پر دستخط کئے جانے سے شادماں ہندوستان میں عرب امارات کے سفیر احمد البنا نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ملک کے درمیان رشتے نئی بلندیوں تک پہنچیں گے۔ انقلاب سے خصوصی گفتگومیں احمد البنانے بتاا کہ ابوظہبی میں ہوئے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے بطور مہمان اعزازی شرکت ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے سمٹ میں درجنوں ممالک کے حکمرانوں اور نمائندوں کے سامنے خطاب کیا اور ہندوستان کے مختلف شعبوں میں برسوں کے تجربے او رمہارتوں کے بارے میں بتایا ۔

انہو ں نے کہاکہ ’’نریندر مودی کا یہ دوروزہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل رہا۔ ایک سوال کے جواب میں احمد البنا نے کہاکہ ’ گذشتہ سال جنوری میں دونوں ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک ڈائیلاگ معاہدہ پر دستخط ہوئے۔یواے ای ہندوستان کی منڈی میں خام تیل‘ ایل این جی او رایل پی جی سپلائی کرنے والا ایک اہم ملک ہے۔ ہمارے تجارتی نقطہ نظر سے ہندوستان ایل پی جی اور پی او ایل برآمد کرنیوالا سب سے بڑا ملک ہے۔ جبکہ ہندوستان کے لئے یو اے ای تیسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہندوستان کا تجربہ بہت گہرا اور ماہرانہ ہے۔ ائی ٹی شعبہ ‘ خلائی ٹکنالوجی ودیگر شعبوں میں ہمارے لئے ہندوستان کی بہت بڑی اہمیت ہے ۔

احمد لبنا نے مزیدکہاکہ ’نریندر مودی کے حالیہ دورہ کے بعد ہمارے رشتے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ہندوستان اور متحد ہ عرب امارات کے درمیان تیل او ر گیس سے متعلق تعلقات سب سے اہم ہیں‘ خاص کر خام تیل‘ ایل پی جی او رپی ایل او پر اہم معاہدے بڑی کامیابی ہیں۔ ورلڈ سمٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ پرامن باہمی معاشرت کا پیغام دینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے البنا نے کہاکہ’پرامن باہمی طرز معاشرت ایک ایسا اہم عنصر ہے جس پر دونوں ملکوں کا زور ہے ۔ جس طرح ہندوستان ایک کثیر لسانی وکثیر مذہبی ملک ہے اسی طرح یو اے بھی مختلف قومیتوں او رتہذیب آباد ی پر مشتمل ہے۔یواے ای میں دو سو سے زیادہ قومیت کے شہری رہتے ہیں۔ بڑی تعداد ہندوستانی شہری رہائش پذیر ہیں۔

برداشت او رباہمی روداری ایسے سماجی عناصر ہیں‘ جس پر دونوں ملک نہ صرف یہ کہ زور دے رہے ہیں بلکہ انہیں فروغ بھی دے رہے ہیں۔ یواے ای میں ہندوستان کے طرز زندگی کی بہتری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہاکہ ’ہمارے لئے ہندوستانی اجنبی نہیں ہیں۔ یواے ای میں جس معیار کی سہولتیں ہیں‘طرز رہائش ہے۔

صحت تعلیم نقل وحمل اور دیگر سہولتیں ہیں ‘ ان سب سے ہندوستانی اتنا ہی استفادہ کررہے ہیں جتنا ہم استفادہ کرتے ہیں‘ سب برابر ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں بہتری اور اسے مزید بہتر بنانے کے علم کو ایک بڑی ذمہ داری قراردیتے ہوئے البنا نے کہاکہ ’بطور سفیر میرے لئے ایک چیلنج بھی ہے او رذمہ داری کہ میں اپنے ملک کے قائدین کے خواب کی تکمیل کی ذمہ داری کو بہتر طریقے سے نبھاؤں۔

ہمارے قائدین نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تکمیل کو ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ واضح ہوکہ وزیراعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاہد النہیان کی دعوت پر 10اور11فبروری کو متحدہ عرب امارات کے سرکاری دور ہ پر تھے۔ پچھلے ڈھائی سال کے دوران جب وزیراعظم اگست2015میں متحدہ عرب امارت گئے تھے تب سے اب تک امارات کے ساتھ ہندوستانی کے رابطہ میں بہت تیزی ائی ہے او ردونوں ملکوں کے درمیان سربراہان حکومت کی سطح کے چار دورے ہوچکے ہیں

TOPPOPULARRECENT