Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / عرب باشندوں سے لڑکیوں کی شادیوں کو روکنے آرڈیننس کی تیاری

عرب باشندوں سے لڑکیوں کی شادیوں کو روکنے آرڈیننس کی تیاری

حالیہ واقعات کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کا سخت نوٹ ، محکمہ قانون کو ہدایت
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ایک ایسے وقت جب کہ شہر حیدرآباد کو پھر ایکبار کم عمر مسلم لڑکیوں کی عرب باشندوں سے شادیوں کو لے کر بدنام کیا جارہا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے کم عمر مسلم لڑکیوں کے استحصال کو روکنے اور شادیوں کے بعد لڑکیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور دوسرے امور پر بھی لڑکیوں کو مکمل ضمانت فراہم کرنے کے لیے آرڈیننس متعارف کرانے کی تیاری کررہی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حال ہی میں شہر حیدرآباد کی 16 سالہ لڑکی کی عمانی ضعیف باشندے کے ساتھ شادی کے انکشاف کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اس کا سخت نوٹ لیا ہے اور انہوں نے اس طرح کے واقعات کے مستقل انسداد کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل شہر کی ایک خاتون نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ 65 سالہ عمانی باشندے سے بیاہی گئی اس کی لڑکی پر عمان میں اس کا شوہر ظلم و زیادتی کررہا ہے ۔ اس پر مرکزی وزیر خواتین و اطفال مینکا گاندھی نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کمسن لڑکی کے شوہر کی عمر اس کے نانا ، دادا کے عمر کی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر چاہتے ہیں کہ کسی بھی غریب حیدرآبادی مسلم لڑکی کے والدین کی مجبوری کا کوئی بھی ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے ۔ ایسی شادیوں کا انتظام کرنے والے دلالوں ، نکاح پڑھانے والے قاضیوں ، اور خود لالچی والدین کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے ۔ حکومت تلنگانہ جو آرڈیننس تیار کررہی ہے ۔ اس کے تحت عرب باشندوں پر کئی ایک شرائط عائد کی جائیں گی ۔ آرڈیننس تیار کرتے ہوئے محکمہ قانون سے رجوع کردیا گیا ہے ۔ محکمہ قانون کی منظوری کے بعد چیف منسٹر کابینہ اجلاس طلب کرتے ہوئے آرڈیننس کی اجرائی کو یقینی بنائیں گے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کنٹراکٹ پر کی جانے والی شادیوں پر روک لگائی جائیں گی ۔ عرب باشندے پرانے شہر کے علاوہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں غریب مسلمانوں کا استحصال کرتے ہوئے کم عمر لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دے رہے ہیں ۔ شادیوں کے بعد انہیں یہاں یکا و تنہا چھوڑ کر واپس ہورہے ہیں یا ساتھ لیجانے والی لڑکیوں کے ساتھ ظلم و ستم کررہے ہیں ۔ ان تمام مسائل کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ حکومت نے عرب باشندوں کی شادیوں کے لیے سخت شرائط پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیاحتی ویزا پر حیدرآباد پہونچنے والے عرب باشندوں کو شادی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ شادی کرنے والے عرب باشندے قانونی ویزا کے اہل ہونا چاہئے ۔ شادی کا ارادہ ہے تو محکمہ خارجہ اور قونصل خانہ میں تمام تفصیلات درج کرائے ۔ منظوری ملنے کے بعد ہی شادی کریں ۔ شادی کے لیے عرب باشندے اور لڑکیوں کی عمر میں صرف 10 سال کا فرق رہے ۔ عرب ممالک روایت کے مطابق لڑکی کو 10 لاکھ روپئے نقد رقم عطا کریں ۔ لڑکی کو شادی کے بعد عرب ممالک لیجانے کے بعد ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ اس کی ہندوستان قونصل خانہ کے عہدیداروں سے بات چیت کرائے ۔ اس کے علاوہ مزید دوسرے شرائط بھی شامل رہنے کی اطلاعات مل رہی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT