Friday , October 19 2018
Home / اداریہ / عرب دنیا کی صورتحال

عرب دنیا کی صورتحال

عالم عرب میں فی الحال جو صورتحال ہے وہ اطمینان بخش نہیں کہی جاسکتی ۔ نہ صرف عرب ممالک بلکہ علاقہ کے دیگر ممالک میں بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ ان ممالک کے آپسی تعلقات میں بھی مسلسل گراوٹ آتی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں اغیار کو صورتحال کے استحصال اور اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کا موقع مل رہا ہے ۔ گذشتہ دنوں عرب ممالک میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان کی وجہ سے ساری مسلم دنیا میں فکر و تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے ۔ ہر کوئی علاقہ کے حالات پر فکرمند ہے اور چاہتا ہے کہ اس علاقہ میں امن و سکون اور ترقی کی فضا بحال ہوجائے ۔ یہاں جو بھی واقعات پیش آئے ہیں وہ ان ممالک کے اپنے داخلی معاملات ہیں اور کسی کو ان میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے لیکن بحیثیت مجموعی مسلم دنیا کے آپسی تعلقات کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی فکر بھی فطری بات ہے ۔ حالیہ وقتوں میں عرب ممالک کے باہمی تعلقات بہت زیادہ متاثر ہوگئے ہیں۔ قطر کے ساتھ کئی عرب ممالک نے اپنے سفارتی تعلقات کو منقطع کرلیا ہے ۔ قطر نے بھی اس معاملہ میں سخت گیر رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور وہ بھی اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک یا نرمی پیدا کرنے کو تیار نظر نہیںآتا ۔ دوسرے عرب ممالک بھی قطر کے تئیںسخت گیر رویہ ہی کے حامل ہیں۔ وہ بھی اپنے موقف میںنرمی پیدا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ علاقہ کے ایک اور اہمیت کے حامل ملک لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے اپنے عہدہ سے استعفی دیدیا ہے ۔ یہ استعفی انہوں نے سعودی عرب سے دیا ہے اور وہ سعودی عرب ہی میں مقیم تھے ۔ لبنان کے کچھ گروپس اور ایران کا الزام تھا کہ سعد حریری کو سعودی عرب میں ایک طرح سے یرغمال بنالیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب نے اس کی کھل کر تردید کی تھی ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ سعد حریری خود سعودی عرب میں لاپتہ یا پھر روپوش ہوگئے ہیں۔ اس پر ابھی تک قطعیت سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ سرکاری طور پر سعد حریری کی موجودگی یا پھر ان کے لاپتہ ہونے کے تعلق سے کچھ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں سعودی عرب اور کویت نے اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور جو شہری پہلے سے لبنان میں موجود ہیں انہیں واپس آجانے کی ہدایت بھی دیدی ہے ۔
ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات بھی حالیہ عرصہ میں مزید شدت اختیار کرگئے ہیں۔ سعودی عرب نے لبنان کے داخلی امور میں ایران اور اس کی حمایت والی تنظیم حزب اللہ پر مداخلت کا الزام عائد کیا ہے ۔ ایران نے بالواسطہ طور پر سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کی طاقت کو نظر انداز نہ کرے ۔ سعودی عرب بھی اس طرح کے انتباہ کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہے اور اس ساری صورتحال نے ساری مسلم دنیا کو فکر و تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال اور اسلامی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ان ممالک اور اس سارے علاقہ میں امن و امان کی فضا برقرار رہے ۔ یہاں ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ رہے کیونکہ ان ممالک اور اس سارے علاقہ کی ترقی اور بہتری ہی میں بیشتر مسلم ممالک کی بہتری اور ترقی مضمر ہے ۔ ان ممالک میں کئی ممالک کے افراد برسر کار ہیں اور یہاں اپنے اور اپنے افراد خاندان کیلئے روزی روٹی حاصل کرتے ہیں۔ اپنی محنت شاقہ کے ذریعہ ان ممالک کی ترقی میں جہاں ایک طرف اہم رول ادا کرتے ہیں وہیں اپنے اپنے ملک کو رقومات روانہ کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں بھی اپنے رول کو بخوبی نبھاتے ہیں۔ اگر اس علاقہ میں بے چینی اور بد امنی شدت اختیار کرتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف ان ممالک پر اور سارے علاقہ پر پڑیگا بلکہ اس کے اثر سے کئی مسلم ممالک اور دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ ان کی معاشی ترقی اور ان کا روزگار بھی ان ہی ممالک سے وابستہ ہے ۔
سارے حالات ایک افسوسناک اور تکلیف دہ منظر نامہ پیش کرتے ہیںاور اس پر ہر فکرمند گوشے کو تشویش کا لاحق ہونا ایک فطری بات ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ عرب ممالک نہ صر ف اپنے اپنے ملک میں حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں بلکہ آپس کے تعلقات کو وسیع تر قومی مفاد میں بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ایک دوسرے کے خلاف حالات کو ہوا دینے کی بجائے انہیں سب کیلئے سازگار ماحول تیار کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ساری مسلم دنیا میں جو تشویش پیدا ہوئی ہے اوردوسرے مختلف ممالک کے جو مسلمان ان حالات سے فکرمند ہیں ان کی تشویش کو دور کرتے ہوئے علاقہ کو امن و امان کا گہوارہ بنانے اور ترقی کیلئے سازگار حالات تیار کرنے پر سبھی ممالک کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اخوت اسلامی اور آپسی بھائی چارہ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے پر ہی سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT