Tuesday , April 24 2018
Home / اداریہ / عرب سربراہ کانفرنس

عرب سربراہ کانفرنس

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جسکو تصور اپنی حالت کے بدلنے کا
عرب سربراہ کانفرنس
بیت المقدس کے تاریخی اور قانونی موقف کو تبدیل کردینے کی کسی بھی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے شاہ سلمان نے عرب امن اقدامات سے عرب قائدین کی اٹوٹ وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ عرب لیگ چوٹی کانفرنس میں فلسطین یروشلم (بیت المقدس) کو اس خطہ میں امن کی کلید قرار دینے کا مقصد ایک آزاد مملکت فلسطین کے قیام کی ضمانت دینے کے لئے جامع حل تلاش کرنے پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ سعودی عرب بلاشبہ تمام عالم اسلام خاص کر عرب ممالک کے استحکام کا کلید ہے۔ یہ واحد طاقتور مملکت ہے جو عالم عرب میں رونما ہونے والے اقدامات پر قریبی نظر رکھتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ان دنوں جو چیالنجس پیدا کردیئے جارہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے سعودی عرب نے اپنی پشت پناہی کے ساتھ اس خطہ کی دستگیری میں اپنا اہم رول ادا کیا ہے۔ شاہ سلمان نے عرب لیگ 29 ویں سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشرقی یروشلم میں اسلامی میراث کی برقراری کو یقینی بنانے کے لئے 150 ملین امریکی ڈالر کے عطیہ کا اعلان کیا۔ شاہ سلمان نے فلسطین اور اس کے عوام کے لئے عرب دنیا کے دل میں پائی جانے والی تڑپ کا بھی اظہار کیا ہے۔ بلاشبہ بیت المقدس فلسطینی خطہ کا اٹوٹ حصہ ہے۔ عرب سربراہ چوٹی کانفرنس کے شرکاء اور عرب قائدین نے فلسطینیوں کے لئے اپنی تائید اور اپنے اتحاد کی صدا بلند کی ہے۔ شاہ سلمان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWAA کے لئے بھی 50 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ زائداز 3 ملین عوام ان دنوں سنگین مالیاتی مشکلات کا شکار ہیں خاص کر امریکہ نے جب اپنے فنڈس میں کمی کردی ہے۔ پناہ گزینوں کو مسائل کا شکار ہونا پڑرہا ہے۔ عرب چوٹی کانفرنس کے شرکاء نے جن بنیادی باتوں کی جانب نشاندہی کی ان میں عرب اتحاد میں پائی جانے والی خامیوں کا ذکر بھی قابل غور ہے۔ جیسا کہ شاہ سلمان نے اس کانفرنس میں شام پر امریکی اور اس کے اتحادیوں کے حملے کا ذکر تو نہیں کیا لیکن ایران پر خطے میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔ شام کی صورتحال پر کوئی رائے ظاہر کئے بغیر سعودی فرمانروا نے عرب خطہ میں دہشت گرد کارروائیوں کی مذمت کی۔ عرب ممالک کے اُمور میں ہونے والی مداخلتوں کو مسترد کرتے ہوئے شاہ سلمان نے عرب خطے کی صورتحال پر جس طرح کی تشویش ظاہر کی ہے اس تناظر میں حالات سے نمٹنے کے لئے عرب اقوام میں اتحاد کو وقت کا تقاضہ سمجھا جارہا ہے۔ سعودی عرب کے تعلق سے یہ سچائی تسلیم کرنے والوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس ملک نے معمولی وسائل والے عرب ممالک کی مالی اور اقتصادی مدد کی ہے۔ عطیات اور دست تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ سعودی عرب کو اپنے برادر ممالک کے وقار و عزت کا خیال ہے وہیں قطر کے معاملہ میں اس کے موقف کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عرب سربراہ کانفرنس میں مختلف مسائل پر غور و خوض تو کیا گیا لیکن جن بنیادی باتوں کا جائزہ لینا چاہئے تھا ان پر دو ٹوک موقف اختیار نہیں کیا گیا۔ خاص کر علاقائی سلامتی، خطہ میں پیدا ہونے والے بحرانوں کا مشترکہ مقابلہ کرتے ہوئے حل نکالنے کی کوششوں کا ذکر واضح نہیں ہے۔ عرب دنیا کے بعض حصوں میں جو بحران دیکھا جارہا ہے اس سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس پالیسی وضع کی جائے دکھائی نہیں دی۔ کانفرنس میں شریک زائداز 22 عرب ممالک کے نمائندوں نے اس تاریخی کانفرنس کو بے نظیر بنانے کی کوششیں ضرور کی ہے۔ سعودی عرب کی سربراہی میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس اور اس میں جاری کیا جانے والا اعلامیہ توقع ہے کہ خطہ میں امن و امان کا ضامن ثابت ہوتا ہے تو یہ فلسطینیوں کے بشمول تمام پریشان زدہ عوام کی پریشانیوں کو دور کرنے میں مددگار ہوگا۔ صدر فلسطین محمود عباس نے سربراہان عرب کانفرنس سے فلسطینیوں کے درد کو سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے بیت المقدس کا دورہ کرنے پر زور دیا۔ عرب ممالک کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یگانگت کرنے کا اس سے بہتر موقع کیا ہوگا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی ناراضگی کو ظاہر کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلوانے میں عالمی برادری کی تائید بھی حاصل کریں جیسا کہ عرب سربراہ کانفرنس کا ایجنڈہ مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کی عربی و اسلامی شناخت کی برقراری ہے تو اس مقصد کو کامیاب بنانے کے لئے تمام عرب ممالک کا جذبہ یکساں اور قوی ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT