Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادیاں روکنے قانون سازی کی تجویز

عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادیاں روکنے قانون سازی کی تجویز

ایڈوکیٹ جنرل سے رائے کی طلبی ، سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کی مختلف شخصیتوں سے مشاورت
حیدرآباد ۔ 18۔ اکتوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادی کے اسکام کی روک تھام کیلئے حکومت نے قانون سازی کے مسودہ پر ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل سے رائے طلب کی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سے خواہش کی گئی کہ وہ جلد سے جلد مسودہ قانون پر اپنی رائے پیش کریں تاکہ قانون سازی میں حکومت کو مدد ملے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں سے مشاورت کے بعد مسودہ قانون تیار کیا ہے اور یہ ایڈوکیٹ جنرل کے زیر غور ہے۔ مسودہ قانون میں کمسن لڑکیوں کی ضعیف العمر عرب شہریوں سے غیر قانونی اور کنٹراکٹ میریجس کو روکنے کیلئے سخت قواعد کو شامل کیا گیا ہے۔ غیر ملکی شہریوں خاص طور پر عرب ممالک سے آنے والے افراد پر اس قانون کا اطلاق ہوگا۔ شادی کے سلسلہ میں بیرونی شہری کو اپنے ملک سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہندوستان پہنچنے کے بعد اسے کئی سرکاری قواعد کی تکمیل سے گزرنا ہوگا ۔ بیرونی شہریوں اور لڑکی کی عمر میں فرق کو کم کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ لڑکی کے نام پر شادی کے وقت 10 لاکھ روپئے کی رقم ڈپازٹ کرنی ہوگی۔ مقامی پولیس سے بیرونی شہری کو رجوع ہوکر اپنے اسنادات پیش کرنے ہوں گے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد مسودہ قانون کو ایڈوکیٹ جنرل کی منظوری حاصل ہوجائے گی جس کے بعد ریاستی کابینہ اسے منظوری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے مجوزہ سیشن سے قبل اگر مسودہ قانون کو منظوری حاصل ہوگی تو حکومت اسے مجوزہ سیشن میں پیش کرنے کی تیاری کرے گی یا پھر اسے آرڈیننس کی شکل میں نافذ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں جو اسکام منظر عام پر آیا ہے ، اس میں خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے پولیس کو ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات کے دوران خاطی قاضیوں اور درمیانی افراد کی نشاندہی کی جارہی ہے تاکہ انہیں سخت دفعات کے تحت جیل بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کا استحصال کرتے ہوئے غریب خاندانوں کی لڑکیوں کو ضعیف العمر افراد کو فروخت کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضیوں کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود نے پولیس سے مکمل تعاون کا تیقن دیا ہے۔ وقف بورڈ کے ذریعہ اس بات کی جانچ کی جارہی ہے کہ کنٹراکٹ میریجس کے ذمہ دار حاجیوں کو سیاہہ نامے کس طرح جاری ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT