Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / عرب شہریوں کی کمسن لڑکیوں سے شادی اسکام کی تحقیقات

عرب شہریوں کی کمسن لڑکیوں سے شادی اسکام کی تحقیقات

محکمہ اقلیتی بہبود سے تعاون کیلئے محکمہ پولیس کی خواہش، قاضیوں کے ریکارڈس کی جانچ کا مشورہ
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں عرب شہریوں سے کمسن لڑکیوں کی شادی سے متعلق اسکیام کی جانچ کے سلسلہ میں پولیس نے محکمہ اقلیتی بہبود سے تعاون کی خواہش کی ہے۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں نے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل سے ربط قائم کرتے ہوئے خاطی قاضیوں کے ریکارڈ کی جانچ کا مشورہ دیا اور کہا کہ وقف بورڈ کے ذریعہ اس بات کی جانچ کی جائے کہ خاطی قاضیوں کو سیایہہ نامہ کس طرح جاری کیے گئے۔ سید عمر جلیل نے پولیس کو اس سلسلہ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا اور وقف بورڈ کے شعبہ قضات سے رپورٹ طلب کی۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ کمسن لڑکیوں کی شادی کے ذمہ دار اصل سرغنہ والٹا قاضی کو سیایہہ جات جاری نہیں کیے گئے اور وہ اپنے مرحوم والد کے سیایہہ نامے استعمال کررہا ہے۔ مذکورہ قاضی جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے، اس کی قیام گاہ سے شادیوں کا جو ریکارڈ دستیاب ہوا اس کی نقل سکریٹری اقلیتی بہبود کو فراہم کی گئی۔ پتہ چلا ہے کہ مذکورہ قاضی نے حالیہ عرصہ میں 551 شادیاں انجام دی ہیں اور اس نے طلاق اور خلع کا کوئی ریکارڈ اپنے پاس نہیں رکھا ہے۔ بیشتر واقعات میں عرب شہری شادی کے ساتھ طلاق کے کاغذات پر بھی دستخط کرتے ہیں اور یہ غیر شرعی طور پر کنٹراکٹ میریج انجام دی جارہی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے مذکورہ قاضی کی معطلی کے بعد شعبہ قضات کو ہدایت دی تھی کہ سیایہہ نامہ کی اجرائی کو روک دیا جائے۔ انہوں نے قضات کے رجسٹر حاصل کرتے ہوئے ان کی جانچ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ قاضی کے والد کو تقریباً 1000 سیایہہ نامے جاری کیے گئے تھے اور ان کے انتقال کے بعد یہ قاضی ان کا استعمال کررہا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے شعبہ قضات کو ہدایت دی کہ اس قدر بڑی تعداد میں سیایہہ نامے جاری نہ کیے جائیں اور قاضی بھلے ہی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اسے بیکوقت صرف 100 سیایہہ نامے جاری ہوں۔ انہوں نے وقف بورڈ کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ تحقیقات کے سلسلہ میں پولیس سے تعاون کریں۔ قاضی کے پاس ضبط شدہ ریکارڈ کے ذریعہ اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ 551 شادیوں میں کتنے طلاق اور خلع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے قضات قانون کا مسودہ ایڈوکیٹ جنرل کے پاس زیر غور ہے جس میں قاضیوں کے لیے سخت شرائط عاید کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تحقیقات میں کئی حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں شعبہ قضات کے رول پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکیام میں اہم رول ادا کرنے والے بروکرس دوسری شادیوں کے لیے مطلقہ خواتین کی تلاش وقف بورڈ کے شعبہ قضات میں کرتے ہیں اور ان کے ایجنٹ یہاں موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا شعبہ قضات کی کارکردگی پر سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT