Sunday , September 23 2018
Home / اداریہ / عرب لیگ کی فوجی طاقت

عرب لیگ کی فوجی طاقت

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ، ہونے والا ہے دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں عرب لیگ کی فوجی طاقت

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
عرب لیگ کی فوجی طاقت
عرب اقوام کو دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے درمیان مصر کے تفریح گاہ شرم الشیخ میں منعقدہ عرب لیگ کی 26 ویں چوٹی کانفرنس میں تمام سربراہان مملکت نے مسائل کی یکسوئی کے لئے قابل عمل اقدامات سے اتفاق کیا۔ عرب لیگ کی ذمہ داریوں میں رکن ملکوں کے حالات اور واقعات کا نوٹ لے کر فوری کارروائی کرنا ہے۔ یمن میں ہونے والے تشدد ، جنگ اور ہنگامہ آرائی کے لئے ذمہ دار طاقتوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا جہاں تک سوال ہے مشترکہ عرب فورس کے قیام کے فیصلہ کے بعد باغی گروپس کو کچلنے کی راہ ہموار ہوگی ۔ عرب لیگ نے 40,000 طاقتور افواج کا ایک دفاعی گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو اس طرح کی طاقت کے وجود میں آنے کے بعد باغیانہ سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے تو عرب لیگ کو دیگر مسائل کی یکسوئی میں بھی آسانی ہوگی ۔ عرب لیگ نے تمام عرب اقوام میں تعاون اور خیرسگالی کے جذبہ کو فروغ دینے کے ایک نئے دور ایک نئی مساعی کا آغاز کیا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ باہمی دفاعی فورس کا قیام اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہوگا جب تمام رکن ملکوں کا فیصلہ سازی پر بھی اتفاق رائے ہونا ضروری ہے ۔ باغیوں کے خلاف یا دہشت گرد سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے فیصلہ کن حملے کرنے کی جہاں تک بات ہے یہ عرب ملکوں کی دیرینہ کوشش کا حصہ ہے ۔ یمن میں حوثی باغیوں کے طاقتور ہونے کے بعد سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں سے ملنے والی سرحدوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمراں شاہ سلمان نے شرم الشیخ میں دیگر سربراہان مملکت سے یہی خواہش کی کہ دہشت گردی کے لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جدوجہد اور فیصلہ کن کارروائیاں ضروری ہیں۔ سرحد پار کی خودکش دستوں کی کاروائیاں بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہیں۔ مصر کی چوٹی کانفرنس کے نتائج فی الفور سامنے نہیں آئے ہیں ۔ یہ بھی پتہ نہیں چلا ہے کہ عرب لیگ کی طاقتور فورس کے قیام کے فوری بعد آیا اس کو یمن روانہ کیا جائے گا یا نہیں۔ اگر یمن کے حالات پر قابو پانے کے لئے عرب لیگ چوٹی کانفرنس کے فیصلوں پر فی الفور عمل آوری نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کی کانفرنس اور سربراہان مملکت کا یکجا ہوکر بیٹھنا فضول ثابت ہوگا ۔ صدر مصر عبدالفتح السیسی نے عرب رہنماؤں میں مشترکہ فوج بنانے پر اصولی اتفاق تو کیا ہے مگر یہ رضاکار فوج اور اس کی کارکردگی کس حد تک طاقتور ہوگی یہ وقت پر ہی پتہ چلے گا ۔ عرب لیگ کو اپنے رکن ممالک کے فوجی نمائندوں کے ساتھ فوری مشاورت کرنی ہوگی ۔ اس وقت یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف صرف سعودی عرب کی زیرقیادت اتحادی فوج سرگرم ہے ۔ اگر سعودی عرب کو عرب لیگ کی متفقہ تائید حاصل ہورہی ہے تو باغیوں کاسرکچلنے میںدیر نہیں ہوگی لیکن یمن میں حوثی باغیوں پر قابو پانا خاص کر اس وقت جب مشرق وسطیٰ کی دیگر تنظیمیں جیسے حزب اللہ اور ایران کی درپردہ حوثی باغیوں کو ملنے والی مدد کے پیش نظر عرب جنگ کے طول پکڑنے کااندیشہ ہے اور اس اندیشے کے قوی ہونے سے قبل ہی عرب جنگ کو جنگی سوچ کے ساتھ مذاکرات اور مصالحت کے عمل پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی کیوں کہ کسی بھی ملک میں باغیانہ سرگرمیاں اس وقت اُٹھتی ہیں جب ناانصافی یا حق تلفیوں یا پھر اقتدار کی لالچ میں ایک گروپ اپنی طاقت مجتمع کرنا شروع کردیتا ہے ۔ یمن میں بھی باغیوں کو طاقتور ہونے کا موقع دیا گیا تھا اس لئے آج یمن کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے ۔ عرب ملکوں نے یمن کے حالات کو دیکھ کر ہی اپنے مستقبل کی فکر کرنا شروع کیا ہے۔ ایسے میں عرب لیگ کا مضبوط گروپ اپنے وجود اور فوجی ، سماجی ، معاشی صلاحیتوں کے مظاہرہ کا ثبوت دیتا ہے تو عالم عرب بلکہ عالم اسلام میں اسلام دشمن طاقتوں ، اقتدار دشمن یا امن دشمن گروپس کو سبق سکھانے میں دیر نہیں لگے گی ۔ یمن میں اگر عرب لیگ کی مشترکہ فوجی طاقت باغیوں کو گھٹنے ٹیکنے کیلئے مجبور کرتی ہے اور یہ باغی ہتھیار ڈالدیتے ہیں تو عرب لیگ کے فیصلہ کن کارروائیوں کا اثر دیرپا رہے گا ۔ مشرق وسطیٰ جیسے فلسطین ، شام ، لیبیا اور دیگر ملکوں میں بھی امن کے قیام میں عرب لیگ کی فورس ایک موثر گروپ ثابت ہوگا ۔ یمن میں گزشتہ ایک ہفتہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان کو فی الفور روکنے کی ضرورت ہے ۔عرب لیگ کے اجلاس کے نتائج اب یمن کے حالات پرقابو پانے کی شکل میں ہی رونما ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT