Wednesday , November 14 2018
Home / Top Stories / عرب ممالک کو چین سے 23 ارب ڈالر کے قرض اور انسانی امداد

عرب ممالک کو چین سے 23 ارب ڈالر کے قرض اور انسانی امداد

مشرق وسطی میں معاشی و سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ اور امریکہ سے مسابقت کی کوشش
بیجنگ میں عرب قائدین کی کانفرنس
صدر ژی جن پنگ کا خطاب

بیجنگ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) چین کے صدر ژی جن پنگ نے اپنے ملک میںتوانائی کی ضروریات کی تکمیل کرنے والے عرب علاقہ پر اثر و نفوذ میں اضافہ کے لئے ایک غیرمعمولی طور پر قدم اُٹھاتے ہوئے متعدد عرب ممالک کے لئے 23 ارب امریکی ڈالر کے قرضوں، مالیاتی و انسانی امداد دینے کا آج اعلان کیا۔ صدر ژی نے بیجنگ میں منعقدہ عرب قائدین کی کانفرنس کے شرکاء سے کہاکہ شام، یمن، اردن اور لبنان کو 91 ملین امریکی ڈالر کی انسانی امداد حاصل ہوگی۔ امدادی پراجکٹوں کے لئے دیگر 151 ملین امریکی ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے مختص 23 ارب امریکی ڈالر کی باقی ماندہ رقم مالیاتی و اقتصادی تعاون کے لئے رکھی جائے گی۔ تاہم یہ باقی رقم کب اور کس طرح تقسیم کی جائے گی اس کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ صدر ژی نے کہاکہ معاشی ترقیاتی تحریک و سرگرمیوں میں ایک نئی شدت کے ساتھ احیاء کے لئے اپنے متعلقہ خوابوں اور ارادوں کے ساتھ چین اور عرب ممالک کو اپنی ترقیاتی حکمت عملی اور منصوبوں میں متحرک ہونا چاہئے۔ چین نے اپنے اقتصادی عزائم اور امریکہ و یوروپ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے جیسے دو اہم مقاصد کے تحت عرب ممالک پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑے پیمانے پر وسعت دیا ہے۔ سعودی عرب گزشتہ سال چین کو تیل سربراہ کرنے والا دوسرا بڑا ملک تھا اور 2018 ء کے آغاز پر عراق اس کے لئے تیسرا بڑا سربراہ کنندہ بن گیا۔ چین کی ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ مساعی میں بھی مشرق وسطیٰ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ چین اس پراجکٹ کے ذریعہ نہ صرف ایشیاء کے دیگر علاقوں بلکہ یوروپ اور افریقہ کے مختلف بندرگاہوں، شاہراہوں، ریلوے لائینوں، اقتصادی ترقیاتی منطقوں اور توانائی پلانٹس کو مربوط کررہا ہے۔ ژی جن پنگ نے عرب قائدین کی اس اہم کانفرنس سے مزید کہاکہ وسطی ایشیاء کو مشرقی ایشیاء کے ساتھ اور بحر ہند کو بحیرہ روم سے مربوط کرنے کے لئے چین مستقبل کے لاجسٹک نیٹ ورک رابطوں کی تعمیر کی حمایت کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں سیاسی سطح پر اثر و رسوخ میں اضافے کے لئے چین نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرنے کی پیشکش کی ہے اور شام میں سات سال سے جاری بحران و خانہ جنگی میں اس ملک کے صدر بشارالاسد کو سفارتی تائید دی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT