Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / عرش محل کی اسماء بیگم ۔سخت محنت لیکن یومیہ صرف 30 روپیہ آمدنی

عرش محل کی اسماء بیگم ۔سخت محنت لیکن یومیہ صرف 30 روپیہ آمدنی

عام آدمی کی خاص بات

عام آدمی کی خاص بات

حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : کشن باغ کا علاقہ عرش محل جو گذشتہ مئی کے مہینے میں اس وقت شہہ سرخیوں میں آیا تھا جب سکھ شر پسندوں نے ایک معمولی واقعہ کو بہانہ بناکر فساد برپا کردیا تھا ۔ مسلم محلہ میں گھس کر ان شرپسندوں نے مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کردیا تھا ۔ گاڑیاں جلادی تھیں اور 3 مسلمان جو اپنے ارکان خاندان کے واحد کفیل تھے پولیس فائرنگ میں شہید ہوگئے تھے اور 12 سے زائد مسلم نوجوانوں کو شدید زخمی کردیا تھا ۔ آج ہم ایک بار پھر اس علاقہ کا جائزہ لینے جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا عرش محل کا پورا علاقہ جہاں تقریبا 1200 مسلم مکانات موجود ہیں مکمل طور پر مسلم بے روزگاری اور غربت کا شکار ہے اس علاقے کے تقریبا تمام گھروں میں مرد حضرات چھوٹے موٹے کام کر کے ، آٹو چلاکر ، میستری کا کام اور بنڈیوں پر چھوٹے چھوٹے کاروبار کرتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ عورتیں اپنے شوہروں کا ہاتھ بٹانے اگربتی بنانے اور پلاسٹک کے ہار بنانے جیسے کام کرتی ہیں ۔ آج ہماری ملاقات ایسی ہی ایک خاتون 24 سالہ اسماء بیگم سے ہوئی جو 8th کلاس تک پڑھی ہیں ۔ انہیں دو بچے ہیں ۔ شوہر میستری کا کام کرتے ہیں ۔ اسماء بیگم نے بتایا کہ ان کے شوہر روزانہ لیبر اڈہ پر چلے جاتے ہیں اگر کام مل گیا تو ٹھیک ورنہ خالی ہاتھ واپس آجاتے ہیں ۔ اسماء بیگم نے کہا کہ وہ پلاسٹک کے پھولوں کو پرونے کا کام کرتی ہیں جس کے لیے انہیں ایک مالا پر ایک روپئے ملتے ہیں اور صبح سے شام تک وہ 30 مالا پرولیتی ہیں اور اسی طرح روزانہ وہ 30 روپئے کما لیتی ہیں جو ان کے لیے بہت اہم ترین رقم ہے چونکہ جب ان کے شوہر جس دن خالی ہاتھ واپس آتے ہیں اس دن یہ رقم کام آجاتی ہے ۔ اسماء بیگم نے بتلایا کہ اس علاقے تقریبا گھروں میں خواتین اپنے اپنے گھروں میں یا تو اگر بتی بناتی ہیں یا پھر پھولوں کو پرونے کا کام کرتی ہیں ۔ تاہم اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ اس طرح دن بھر بیٹھ کر کام کرتے رہنے سے اکثر خواتین پیٹھ میں درد ، پیٹ میں پانی بھر جانا ، وزن کا بڑھ جانا اور دیگر امراض کا شکار ہورہی ہیں ۔ عرش محل کے حالات کو دیکھنے کے بعد ہمیں یہ احساس ہوا کہ اس علاقے کے لیے ایسے اصحاب کو آگے آنے کی ضرورت ہے جو معقول معاوضے کے ساتھ ان خواتین کو روزگار کا ذریعہ فراہم کرسکے ورنہ وقتی طور پر تو کئی ایک اصحاب سامنے آئے اور الحمدﷲ انہوں نے خاطر خواہ مدد بھی کی ۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی اسے ذرائع اور وسائل مہیا کیے جائیں جس سے اس غریب ترین علاقے کے مسلمانوں کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ پیدا ہوسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT