Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / عرفانی کلام ، مقصد تخلیق انسان کے حصول میں معاون

عرفانی کلام ، مقصد تخلیق انسان کے حصول میں معاون

شعری مجموعہ ’ نکات عرفان ‘ کی رسم اجراء ، ممتاز ادباء و شعراء کا اظہار خیال
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( راست ) : ادارہ اقلیم ادب حیدرآباد کے زیر اہتمام ، شہر کے ایک جانے پہچانے شاعر ، صحافی و قانون داں خواجہ مصطفی علی صوفی کے شعری مجموعہ ’ نکات عرفان ‘ کی رسم اجراء زیر سرپرستی حضرت رحمن جامی ، ممتاز ماہر تعلیم ادیب و نقاد پروفیسر رحمت یوسف زئی کے ہاتھوں انجام پائی ۔ یہ تقریب حضرت جامی کی قیام گاہ ’ الحرا ‘ ہلز کالونی ، مہدی پٹنم ) کے ادبی ہال میں منعقد ہوئی ۔ پروفیسر رحمت یوسف زئی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ وہ ’ نکات عرفان ‘ کے شاعر کو ایک عرصہ سے جانتے ہیں جنہوں نے متصوفانہ نکات کو اشعار کے قابل میں ڈھال کر متقدمین کے نقوش قدم کی پیروی کی ہے اور ایک عظیم خدمت انجام دی ہے جس کے لیے وہ لائق مبارکباد ہیں ۔ موصوف کے کلام میں غالب کا رنگ نمایاں ہے اور روح غالب سے داد تحسین کے حصول کے مترادف ہے ۔ سلاست کے ساتھ اسرار الہیہ کی طرف اشارہ جناب صوفی کے کلام کا طرہ امتیاز ہے ۔ محترم رحمن جامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جناب صوفی کی ہر غزل میں عرفانی نکات کا عنصر نمایاں ہے ۔ جو سلوک میں ایک سالک کے لیے ممد و معاون ہے ۔ جناب صوفی کی سادہ مزاجی گویا ایک اعتبار سے ان کا پردہ بن گئی ہے ۔ جناب نذیر نادر نے اپنی تقریر میں صاحب کتاب کے بعض اشعار کے حوالے دیتے ہوئے ان اشعار کی معنویت کو اجاگر کیا ۔ اس شعر پر کہ ’ ہوش والے تجھے پتا کیا ہے ۔ سخن اقرب کا عندیہ کیا ہے ‘ جناب نادر نے کہا کہ قافیہ عندیہ کا استعمال علم الاسرار کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بجائے خود ایک سمندر ہے ۔ جناب ایم ایم یوسف نے اپنی تقریر میں کہا کہ صوفیانہ شاعری مقصد تخلیق انسانی کو پورا کرنے اور تقرب الہیٰ کے حصول میں ممد و معاون ہوتی ہے ۔ دنیا کے دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی صوفی ازم اور وحدانیت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں ۔ ممتاز صحافی مسٹر محمد ریاض احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں شرکت ان کے لیے باعث افتخار و مسرت ہے کہ انہیں اپنے استاد پروفیسر رحمت یوسف زئی اور اپنے خسر جناب صوفی کی موجودگی میں صوفیانہ شاعری جیسے اہم موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا ۔ سرزمین ہند اور اقطاع الم میں صوفیائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعہ روحانیت اور اخوت کا جو پیغام دیا ہے وہ اظہر من الشمس ہے ۔ ممتاز شاعر جناب فرید سحر نے اپنی تقریر میں جناب صوفی کو دلی مبارکباد پیش کی اور درازی عمر کی دعا کی ۔ جناب حسن بن محمد بارزیق نے مختصرا اظہار خیال کرتے ہوئے جناب صوفی کے کلام اور تصوف کی ترویج و اشاعت کے لیے ان کی خدمات کو سراہا ۔ حکیم سید نثار علی نامی نے بھی مخاطب کیا ۔ نسیم اعجاز نسیم ، سعید صحرائی ، محمد احمد الدین انجینئر ، اور دیگر اہم شخصیتوں نے اظہار خیال کیا ۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے صوفیانہ شعری مجموعہ کی افادیت کو سراہا ۔ تقریب کا آغاز جناب عتیق فائق کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ ممتاز نعت گو شعراء سید شاہنواز ہاشمی اور خواجہ ابراہیم علی منیر نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے سماں باندھ دیا ۔ جناب نذیر نادر نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئیے ۔ محترم رحمن جامی کے شکریہ پر یہ کامیاب ادبی و وجدانی محفل اختتام کو پہنچی ۔۔
شمس آباد کو ضلع ہیڈکوارٹر بنانے میلارم سلوچنا کا مطالبہ
شمس آباد ۔ 17 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : میلارم سلوچنا اسٹیٹ سوشیل ویلفیر کمیٹی ممبر و سینئیر کانگریس قائد نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ تلنگانہ حکومت اضلاع کی تعداد میں اضافہ کررہی ہے ۔ شمس آباد کو بھی ضلع ہیڈکوارٹر بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شمس آباد حیدرآباد سے بالکل قریب ہے ۔ نیشنل ہائی وے ، انٹرنیشنل ایرپورٹ ، بس اسٹانڈ ، ریلوے اسٹیشن ، ترکاری مارکٹ وغیرہ تمام سہولیات ہے شمس آباد کو ضلع ہیڈکوارٹر بنانے سے عوام کو کافی سہولت ہوگی ۔ میلارم سلوچنا نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے اپیل کی کہ شمس آباد کو ضلع ہیڈکوارٹر بنائے تاکہ عہدیداروں و عوام کو سہولت ہوسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT