Saturday , June 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / عرف و رواج اور اسلامی نقطۂ نظر

عرف و رواج اور اسلامی نقطۂ نظر

اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اسلام کا قانون حیات ہے، جو اس کی آفاقیت و ابدیت پر عمدہ مثال ہے۔ ساری دنیا کے اعلی دماغ و دانشمند ایسے قانون زندگی کو پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔ کیا دنیا کی کوئی قوم یا دنیا کا کوئی مذہب بتا سکتا ہے کہ ان کے پاس ایسا قانون ہے، جو بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے ہر وقت اور ہر دور میں، مخت

اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اسلام کا قانون حیات ہے، جو اس کی آفاقیت و ابدیت پر عمدہ مثال ہے۔ ساری دنیا کے اعلی دماغ و دانشمند ایسے قانون زندگی کو پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔ کیا دنیا کی کوئی قوم یا دنیا کا کوئی مذہب بتا سکتا ہے کہ ان کے پاس ایسا قانون ہے، جو بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے ہر وقت اور ہر دور میں، مختلف علاقوں اور ملکوں میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل، مختلف تہذیب و تمدن، مختلف رسم و رواج کے عادی افراد کی ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہو؟۔ ساری دنیا میں اس خصوصیت کا حامل کوئی مذہب ہے تو وہ صرف دین اسلام ہے۔
رنگ و نسل کا اختلاف، زبان و بیان کا اختلاف، تہذیب و تمدن کا اختلاف، رسم و رواج کا اختلاف، طور طریق کا اختلاف اور رہن سہن کا اختلاف فطری امر ہے۔ قوموں کے عادات و اطوار، رسم و رواج ہر دور میں بدلتے رہتے ہیں۔ اگر قوموں کے عرف عام، رسم و رواج، طور طریقوں کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو جمود و انقباض پیدا ہوگا۔

اسلام ایک فطری دین ہے، جس میں فطرت انسانی کا بھرپور لحاظ ہے، تقاضائے انسانیت کی کامل مراعات ہے، انسانی عادات و اطوار، عرف و رواج کی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے رسم و رواج اور عرف و عادت کو یکلخت نظرانداز نہیں کیا اور نہ مکمل آزاد چھوڑدیا، بلکہ حد بندی کی، اس کے اصول و قواعد منضبط کئے اور اس کے دائرہ کو متعین کردیا۔
عرف کی تعریف:۔ عرف اسم مذکر ہے، جس کے لغوی معنی اردو زبان میں شناختگی، پہچان، مشہور نام، عام نام کے ہیں۔ (فرہنگ آصفیہ، جلد دوم) علامہ ابن عابدین شامی نے عقود رسم المفتی میں عرف و عادت کی تعریف اس طرح کی ہے۔عرف و عادت وہ قول و عمل ہے، جو عقل اور تجربہ تمدنی کی بنیاد پر لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو جائے اور اس کو سنجیدہ فطرت کے افراد نے قبول کرلیا ہو۔ عرف و رواج کو بعض اوقات ’’نطیری قانون‘‘ یا ’’قانون مادی‘‘ کے مترادف سمجھاجاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے، جب احکام کی بنیاد مسلمہ مقامی رواج و عرف پر رکھی جائے اور یہ بات معروف ہے کہ بہت سے قبائل اور طبقات میں یہ غیر مدون قوانین، روایات اور رسم و رواج ہیں، جن کے ذریعہ مقامی طورپر اجتماعی زندگی کا نظام چلتا ہے۔ (اردو دائرۃ المعارف)

عرف کی مشروعیت:۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! تم اپنے اموال کو آپس میں باطل طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے ہوں (یعنی تاجرین کے نزدیک باہمی رضامندی سے جو طریقے رائج ہوں، جن کو ملحوظ رکھنے سے اختلاف و نزاع پیدانہ ہوتا ہو اور شرع سے نہ ٹکراتا ہو، وہ تاجرین کا عرف و رواج شرعاً قابل قبول ہے)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرماکر تشریف لائے تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہاں پہلے قیمت دے کر آڈر کردیا جاتا ہے، پھر مال تیار ہوکر خریدار کو ایک مقررہ وقت کے بعد دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ مکہ مکرمہ کے تجارتی عرف کے خلاف تھا، تاہم آپﷺ نے اہل مدینہ کے تعامل کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے عرف کو جائز قرار دیا۔اس طرح آپﷺ نے مدینہ منورہ میں کھجور کے نر و مادہ درخت کے باہم ملاپ سے منع کیا اور قدرتی طورپر ہواؤں کے ذریعہ ان کے ملاپ پر اکتفاء کی تلقین کی۔ بعد ازاں آپﷺ نے اہل مدینہ کے عرف و رواج کے مطابق تابیر نخل کی اجازت مرحمت فرمادی۔
قرآن مجید کے نصوص قطعیہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال مبارکہ بالخصوص عرف و رواج کو ملحوظ رکھنے کی تعلیمات کے پیش نظر فقہاء نے شریعت میں عرف و رواج کو کافی اہمیت دی اور مشہور قاعدے مرتب کئے۔
(۱) العادۃ محکمۃ: عادت محکم ہوتی ہے(۲) الممتنع عادۃً کالممتنع حقیقۃ جو عادۃً ممتنع ہو، وہ حقیقۃً بھی ممتنع ہوتی ہے (۳) المعروف عرفاً کالمشروط شرعاً: جو چیز عرفاً معروف ہو، وہ شرعاً مشروط کے درجہ میں ہے۔
عرف کی استعمال کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں (۱) عرف قولی (۲) عرف فعلی۔ عرف قولی سے وہ الفاظ مراد ہوتے ہیں، جن کو ادا کرنے سے وہ معنی سمجھ میں آجاتے ہوں، جو عرف و رواج میں عام ہوں، اس کے حقیقی و لغوی معنی مراد نہیں ہوتے۔ مثلاً اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ ’’بخدا! میں زید کے گھر کا پانی نہیں پیوں گا‘‘۔ پانی نہیں پیا، کھانا کھایا تو بھی قسم توڑنے والا ہوگا، کیونکہ عرف و رواج میں ’’پانی نہیں پیوں گا‘‘ سے ’’زید کے گھر کی کوئی چیز نہیں چکھوں گا‘‘ مراد ہوتا ہے۔
عرف فعلی: وہ عمل مراد ہے، جس پر عوام الناس کا عمل درآمد ہو۔ مثلاً شریعت میں بیع اس قت منعقد ہوتی ہے، جب فروخت کنندہ کہے کہ ’’میں نے بیچا‘‘ اور خریدار کہے ’’میں نے خریدا‘‘۔ لیکن عرف عام میں کسی شے کی قیمت معلوم ہوتی ہے، خریدار وہ شے لیتا ہے اور فروخت کنندہ کو رقم ادا کردیتا ہے۔ دونوں زبان سے کوئی لفظ ادا نہیں کرتے، لیکن عرف عام کی بناء بیع کے انعقاد کا حکم لگایا جاتا ہے۔

عرف کے شرعی اعتبار سے مقبول ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے فقہاء نے دو قسمیں بیان کی ہیں (۱) عرف صحیح (۲) عرف فاسد۔ عرف صحیح وہ عمل یا طریقہ ہے، جس میں نص شرعی کی مخالفت نہ ہو۔ عرف فاسد وہ عمل یا طریقہ ہے، جس میں کسی دلیل شرعی یا حکم شرعی کی مخالفت ہو، جیسے سودی کاروبار کا چلن۔
علامہ ابن عابدین شامی نے مفتی کے لئے زمانہ کے عرف اور اہل زمانہ کے احوال سے واقفیت کو لازم قرار دیا اور عرف سے واقفیت کے لئے ایک ماہر استاد فن کی شاگردی کو ضروری ٹھہرایا اور عرف کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’وھذا صریح فیما قلنا ان المفتی لاَیفتی بخلاف عرف اھل زمانہ‘‘ یعنی مفتی اپنے اہل زمانہ کے عرف کے خلاف فتویٰ نہیں دے گا۔ آپ نے مفتی کے لئے عوام الناس کے احوال سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے جستجو پر زور دیا اور یہ بھی فرمایا: ’’جو مفتی اہل زمانہ سے واقف نہ ہو، وہ جاہل ہے‘‘۔
نیز فقہاء نے امام ابویوسف کی عوام الناس کے احوال سے عملی واقفیت کی بناء ان کے قول کو معاملات میں مفتی بہ گردانا ہے۔ امام محمد انگریزوں کے احوال کی تفتیش کے لئے ان کے پاس جاتے اور ان کے یہاں رائج طریقۂ کار سے واقفیت حاصل کیا کرتے۔ لہذا شریعت مطہرہ میں عرف و رواج کو ملحوظ رکھا گیا، لیکن جو عرف و رواج شریعت اسلامیہ سے ٹکراتے ہیں، ان کو رد کرنا لازم ہے۔

TOPPOPULARRECENT