Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / عزت و احترام والی زندگی کیلئے خواتین کو با اختیار بنانا ضروری

عزت و احترام والی زندگی کیلئے خواتین کو با اختیار بنانا ضروری

تعلیم ‘ روزگار ‘ سماج اور سیاست میںمساوی مواقع دینے کی وکالت ۔ نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو کا خطاب

حیدرآباد 30 مارچ ( پی ٹی آئی ) نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانے کے نتیجہ میں وہ لوگ ایک عزت و احترام والی زندگی بسر کرسکیں گی اور بہتر فیصلے کرسکیں گی ۔ انہوں نے جنسی امتیاز کے خلاف جدوجہد اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ۔ مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ خواتین ہندوستان کی آبادی کا تقریبا نصف ہیں اور ان کو تعلیمی ‘ سماجی اور سیاسی اعتبار سے با اختیار بنانا ملک کی بنیادی ضرورت ہے تاکہ ترقی کی طاقتوں کو استحکام مل سکے اور تیز رفتار ترقی کے نشانہ کو پورا کیا جاسکے ۔ ایک سرکاری اعلامیہ میں یہ یہ بات بتائی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے علاوہ ترقی کے مواقع اور نفع بخش ملازمتوں تک غیر مساوی رسائی کی وجہ سے جنسی تفاوت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خواتین پر مظالم اور گھریلو ایذا رسانی سے قوم کی امیج متاثر ہو رہی ہے ۔ جنسی امتیاز کے خلاف اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت اور عام سماج کو چاہئے کہ وہ خاطر خواہ نتائج کے حصول کیلئے سرگرم رول ادا کریں۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی ویدک دور میں خواتین کو بھی مردوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں مساوی درجہ دیا جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت میں اہم اصول جنسی مساوات کا ہی ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ مہیلا دکشتا سمیتی کی سلور جوبلی تقاریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مارے پاس انتہائی قابل خواتین کی ایک طویل قطار موجود ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جنسی امتیاز کا رجحان بھی پایا جاتا ہے ۔

اس کے نتیجہ میںخواتین میں خواندگی کے فقدان ‘ تعلیم کے فقدان کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکال ہے کہ ملازمتوں اور سیاست میں خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جنسی مساوات اسی وقت ممکن ہوسکتی ہیں جب خواتین کو تمام شعبوں مثالا تعلیم ‘ سماجی سطح پر ‘ معاشی میدان میں اور سیاست میں مساوی مواقع دئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے وہ یہ کہتے آئے ہیں کہ خواتین کو حکمرانی کے تمام مدارج میں گرام پنچایت سے پارلیمنٹ تک واجبی حصہ داری ملنی چاہئے ۔ وہ خواتین میں خواندگی کی شرح میں بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیتے آئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملازمتوں کے میدان میں بھی خواتین کی خاطر خواہ تعداد سامنے آئے ۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملہ میں بھی خواتین سے ناانصافی یا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے ۔ مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ جنسی عدم مساوات کو ختم کرنا ‘ کام کے مقام پر تحفظ فراہم کرنا ‘ نگہداشت صحت کی سہولیات فراہم کرنا ‘ خواتین میں روزگار کی صلاحیتیں پیدا کرنا اور ان کیلئے روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی کوششوں کا مقصد خواتین کو با اختیار بنانا ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بناانے سے وہ ایک عزت و احترام والی زندگی گذارسکتی ہیں۔ بہتر فیصلے کرسکتی ہیں چاہے وہ معاشی امور ہوں سماجی معاملات ہوں یا سیاسی فیصلے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف امتیاز اور مظالم کے خاتمہ کیلئے ہر سطح پر منظم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جسنی مساوات کا عمل گھر سے شروع ہونا چاہئے اور لڑکیوں کو احساس کمتری کا شکار ہونے سے بچایا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT