Tuesday , October 16 2018
Home / Top Stories / عسکریت پسندوں کو ہلاک کرکے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں: محبوبہ مفتی

عسکریت پسندوں کو ہلاک کرکے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں: محبوبہ مفتی

مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لیے طاقت سے زیادہ انسانی جذبہ کو اجاگر کرنے کی ضرورت
کٹھوار (جموں وکشمیر) ۔ 29 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ وادی کشمیر میں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرکے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ دہشت گردوں کو مارنے سے دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ مسئلہ سے نمٹنے کے لیے زیادہ اسے زیادہ انسانی جذبہ کے تحت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بعد وادی میں خواتین کے خلاف بڑھتے تشدد اور منشیات کی لعنت سب سے برے چیلنجس بن کر ابھرے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے یہاں پولیس ٹریننگ اسکول میں 947 ریکروٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کشمیری دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے لیکن یہ دہشت گردی صرف دہشت گردی کو ہلاک کرنے سے ختم نہیں ہوسکتی بکہ اس کے لیے انسانی جذبہ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پی ڈی پی لیڈر نے مزید کہا کہ ہم کو اس کی اصل وجہ کو سمجھانا ہوگا اور دہشت گردی کے پیچھے اصل مسئلہ کیا ہے اس کا پتہ چلانا ہوگا۔ اس سال وادی کشمیر میں سکیوریٹی فورسس کی جانب سے 200 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جو حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ریاست میں انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے نرم رویہ اختیار کرنے کی وکالت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے حکومت کے حالیہ فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں پہلی مرتبہ سنگباری کرنے والوں کے خلاف کیسوں کو واپس لیا جائے گا۔ پولیس ان بچوں سے مل کر کونسلنگ کررہی ہے۔ میں نے پیلیٹ کے زخمیوں کو اپنے گھر حال ہی میں مدعو کیا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان میں سے زیادہ تر معصوم بچے ہیں جن کی عمر 14، 15 یا 16 سال ہے۔ محبوبہ مفتی نے ریاستی پولیس فورسکی ستائش کی کہ اس نے ڈسپلین کا مظاہرہ کیا ہے اور شدید اشتعال انگیز کا سامنا کرتے ہوئے صبروتحمل سے کام لیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام بہت ہی حساس ہے۔ جموں و کشمیر میں ہر روز چیلنجس پیدا ہورہے ہیں۔ ملک کی دیگر ریاستوں کے بہ نسبت پولیس کو اس ریاست میں سخت آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ دہلی کے تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ زیادتیوں کی رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر جموں و کشمیر نے کہا کہ اس شرمناک واقعہ سے نہ صرف پولیس ملازمین کا نام بدنام ہوتا ہے بلکہ پوری پولیس فورس کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس ہماری جموں و کشمیر کی پولیس شاندار کام انجام دے رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT