Tuesday , December 11 2018

عسکریت پسندی حامی نعرے وادی کشمیر میںواپس

سرینگر ۔21جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سرینگر کے مضافات میں دیواروں پر ’’ہم دولت اسلامیہ چاہتے ہیں ‘‘ نعرہ تحریر کیا گیا ہے ۔ چھوٹے مذہبی اجتماعات میں عوام پر زور دیا جارہا ہے کہ عسکریت پسندی میں شرکت کریں اور شمالی کشمیر کے علاقہ سوپور سے جنوبی کشمیر کے علاقہ اننت ناگ تک کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن کی وجہ سے پولیس کا حوصلہ پست ہوگیا ہے ۔

سرینگر ۔21جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سرینگر کے مضافات میں دیواروں پر ’’ہم دولت اسلامیہ چاہتے ہیں ‘‘ نعرہ تحریر کیا گیا ہے ۔ چھوٹے مذہبی اجتماعات میں عوام پر زور دیا جارہا ہے کہ عسکریت پسندی میں شرکت کریں اور شمالی کشمیر کے علاقہ سوپور سے جنوبی کشمیر کے علاقہ اننت ناگ تک کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن کی وجہ سے پولیس کا حوصلہ پست ہوگیا ہے ۔ سوپور وادی کشمیر کا سیبوں کا قصبہ سمجھا جاتا ہے ‘ حال ہی میں یہاں پر 6شہریوں کی ہلاکت کے بعد جن میں سے بعض سابق عسکریت پسند تھے اور سمجھا جاتا ہے کہ حذب المجاہدین کے علحدہ شدہ گروپ نے انہیں ہلاک کیا تھا ۔ چار افراد دہشت گردوں کی گولیوں کا سات دنوں میں شکار ہوگئے ۔ ان ہلاکتوں سے خونریزی کی جانب قیوم نذر عرف نذروالا کی طرف انگشت نمائی ہوتی ہے ‘ لیکن پولیس نے ابھی تک اس پر شبہ نہیں کیا ہے ۔ کیونکہ وہ سوپور میں تشدد برپا کرچکا ہے ۔ تاہم اس کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ۔ سرینگر کے مضافات میں نربل کے علاقہ میں جو واقعہ پیش آیا جس میں ایک اے ایس آئی اور ایک کانسٹبل ہلاک کردیئے گئے تھے کیونکہ انہوں نے سنگباری کرنے والے ایک ہجوم پر گولی چلائی تھی ۔ پولیس پر حملہ کرنے والی ٹیم فرار ہوگئی اور نفاد قانون نظام کو مایوسی ہوئی ۔ پولیس عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ کوئی عدالتی تحقیقات منعقد نہیں کی جاسکتی جب تک کہ کسی شخص پر قتل کا الزام عائد نہ کیا جائے ۔ انسداد عسکریت پسندی کارروائیوں کو زبردست جھٹکا لگا کیونکہ پولیس تیزی سے اپنے وسائل کھورہی ہے اور عوام نے اس مخبری کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ۔ انسانی سراغ رسانی تمام انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے ‘ لیکن یہ ذریعہ خشک ہوچکا ہے ۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ ہمارے کئی ذرائع فرار ہوچکے ہیں یا پھر انہوں نے وفاداریاں تبدیل کرلی ہیں ۔۰

TOPPOPULARRECENT