Friday , November 16 2018
Home / Top Stories / عسکریت پسند جاسوس تربیتی مرکز کابل میں زبردستی داخل

عسکریت پسند جاسوس تربیتی مرکز کابل میں زبردستی داخل

دو ملازمین پولیس زخمی، دولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کرلی
کابل ۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) عسکریت پسند محکمہ سراغ رسانی کے تربیتی مرکز کابل میں آج زبردستی داخل ہوگئے اور حملہ کیا۔ اس حملہ کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔ ان کے اس طرح زبردستی داخل ہونے پر افغان پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ عمل میں آیا۔ قومی ڈائرکٹریٹ برائے صیانت کا عسکریت پسندوں نے دو حملہ آوروں کے حملہ سے گھنٹوں قبل محاصرہ کرلیا تھا۔ دو حملہ آور عمارت میں جو زیرتعمیر تھیں، روپوش تھے۔ انہوں نے ترقی یافتہ دھماکو آلہ سے دھماکہ کیا جس سے ان میں سے دو یا تین افراد ہلاک ہوگئے۔ ایک اطلاع کے بموجب موقع واردات پر حملہ آور ایک کار بم کے ساتھ داخل ہوئے تھے جس سے انہوں نے دھماکہ کیا۔ کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد نے کہا کہ دو ملازمین پولیس زخمی ہیں لیکن کوئی بھی شہری ہلاک نہیں ہوا۔ حملہ کے دوران اس علاقہ کی سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی۔ کئی پولیس ملازمین اور محکمہ سراغ رسانی کے عہدیداروں نے عوام کے لئے داخلہ بند کردیا تھا۔ اخباری نمائندے جنہیں موقع واردات سے ایک کیلو میٹر کے فاصلہ پر رکھا گیا تھا، ایمبولنس گاڑیوں اور پولیس کی گاڑیوں کو موقع واردات کی طرف آتے دیکھا ۔ ایک طالب علم نوید نے کہا کہ وہ اسکول جانے تیار ہورہا تھا جبکہ یہ دھماکہ ہوا۔ دولت اسلامیہ نے اپنے تشہیری شعبہ کے ذریعہ اس دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ جہادیوں کے شعبہ ’’عماق‘‘ پر تحریر کیا گیا ہیکہ دولت اسلامیہ کے دو حملہ آوروں نے افغان محکمہ سراغ رسانی کے مرکز واقع کابل پر حملہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT