Tuesday , May 22 2018
Home / ہندوستان / عشرت انکاؤنٹر : سابق ڈی جی پی پانڈے بری

عشرت انکاؤنٹر : سابق ڈی جی پی پانڈے بری

احمدآباد ۔ 21 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے گجرات کے ایک سابق انچارج ڈی جی پی پی پی پانڈے اور دیگر تین ملزمین کو 2004ء کے عشرت جہاں مبینہ فرضی انکاؤنٹر کیس میں منسوبہ الزامات سے بری کردیا۔ خصوصی عدالت کے جج جے کے پانڈیا نے اس بنیاد پر پانڈے کی درخواست برأت قبول کی کہ ان کے خلاف عشرت جہاں اور دیگر تین افراد کے اغواء اور قتل سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس مقدمہ کی تحقیقات کرنے والے ادارہ سی بی آئی نے اس انکاؤنٹر کے وقت احمدآباد کرائم برانچ کی قیادت کرنے والے پی پی پانڈے پر مبینہ فرضی انکاونٹر میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ عدالت نے آج کہا کہ کسی بھی گواہ نے پانڈے پر متاثرین کے اغواء یا قتل کا الزام عائد نہیں کیا۔ خصوصی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ثبوت اور گواہ متضاد تھے کیونکہ مختلف تحقیقاتی اداروں کو انہوں نے مختلف ثبوت فراہم کیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بحیثیت سرکاری ملازم پانڈے کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے چارج شیٹ پیش کرنے سے قبل تحقیقاتی افسر نے ریاستی حکومت سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ سی بی آئی کی طرف سے 2013ء میں پیش کردہ پہلی چارج شیٹ میں بشمول آئی پی ایس افسران پی پی پانڈے، ڈی جی ونجارا اور جی ایل سنگھل گجرات کے سات پولیس افسران کے نام ملزمیان کی حیثیت سے شامل کئے گئے تھے۔ وہ اغوائ، قتل اور سازش کے الزامات کا سامنا کررہے تھے۔ سٹی کرائم برانچ کے عہدیداروں نے 15 جولائی 2004ء کو احمدآباد کے مضافات میں مہاراشٹرا کے ممبر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ کالج طالبہ عشرت جہاں اس کے دوست جاوید شیخ عرف پرنیش ذیشان جوہر اور امجد رانا کو ایک مبینہ انکاؤنٹرمیں گولی مار دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT