Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / عشرت جہاں انکاؤنٹر کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ناکام

عشرت جہاں انکاؤنٹر کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ناکام

گجرات پولیس کے خلاف کارروائی سے دستبرداری کی درخواست سپریم کورٹ میں مسترد
نئی دہلی۔/11مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج ایک مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت سے انکار کردیا ہے جس میں لشکر طیبہ کے کارندہ ڈیوڈ ہیڈلی کے حالیہ اقبالیہ بیان کے پیش نظر عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس میں گجرات پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی، معطلی اور دیگر کارروائیوں کو کالعدم قرار دینے کی گذارش کی گئی۔ جسٹس پی سی گھوسے اور امیتاؤ رائے پر مشتمل بنچ نے اس کیس میں ایڈوکیٹ ایم ایل شرماکی بحث شروع ہوتے ہی کہا کہ آرٹیکل32کا مقصد کیا ہے اور جس کے تحت اس طرح کا کیس دائر نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم دستور کی دفعہ 226 کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل توشار مہتا نے جب اس معاملہ پر وضاحت طلب کی تو بنچ نے کہا کہ میرٹ کی بنیاد پر مفاد عامہ کی درخواست یکسر مسترد نہیں کی جارہی ہے اگر کسی شخص کو شکایت ہے تو وہ متعلقہ اتھاریٹی سے رجوع ہوسکتا ہے۔ اس طرح بنچ نے سیاسی نوعیت کے حساس کیس میں متاثرہ گجرات پولیس عہدیدار بشمول ڈی آئی جی مسٹر ڈی جی ونزارا کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے عدالت سے رجوع ہونے کی راہ ہموار کردی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی نے حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ میں یہ بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی تربیت یافتہ کارکن تھی، جس کی بنیاد پر درخواست گذار نے گجرات پولیس کے خلاف کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے ۔

گجرات پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بشمول ونجارا کو مذکورہ انکاؤنٹر کیس میں ان کے مبینہ رول پر ممبئی عدالت میں الزامات کا سامنا ہے۔ امریکی جیل میں مقید ڈیوڈ ہیڈلی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 26/11 ممبئی حملوں کیلئے لشکر طیبہ نے سازش تیار کی اور جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گجرات پولیس کے انکاؤنٹر میں ہلاک  4افراد بشمول عشرت جہاں دہشت گرد تھے اور ان دہشت گردوں کو اسوقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کے قتل کی ذمہ داری دی گئی تھی، لیکن پولیس نے جون 2004 میں انکاؤنٹر میں دہشت گردوں کو ہلاک کرکے اس سازش کو ناکام بنایا تھا۔درخواست گذار نے سپریم کورٹ سے یہ گذارش کی ہے کہ ہیڈلی کی گواہی اور واقعاتی ثبوت کی بناء پر گجرات پولیس کے خلاف فوجداری مقدمہ اور سی بی آئی کارروائی سے دستبرداری اختیار کرنے کی ہدایت دی اور یہ اعلان کیا جائے کہ دہشت گردوں کی ہلاکت ہندوستانی قوانین کے مطابق جرم نہیں ہے اور حق و انصاف کے مفاد میں متاثرہ پولیس ملازمین کو مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔ دریں اثناء لوک سبھا میں آج عشرت جہاں کا مسئلہ اٹھایا گیا جبکہ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس نے یہ الزام عائد کیا کہ اس مسئلہ پر تحریک توجہ دہانی کے استرداد سے شدید ناانصافی ہوئی ہے۔ تاہم حکومت اور اسپیکر نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔

TOPPOPULARRECENT