Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / عشرت جہاں مقدمہ کی فائلس دانستہ یا غیردانستہ غائب

عشرت جہاں مقدمہ کی فائلس دانستہ یا غیردانستہ غائب

صرف ایک فائل دستیاب ہوسکی، پینل رپورٹ پیش ، چدمبرم کو ماخوذ نہیں کیا گیا

نئی دہلی ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) عشرت جہاں مقدمہ سے متعلق گمشدہ فائلس کی تحقیقات کررہے ایک رکنی پینل نے اپنی رپورٹ پیش کردی اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان پیپرس کو دانستہ یا غیردانستہ طور پر ہٹا دیا گیا یا پھر یہ کہیں گم ہوگئے۔ یہ واقعہ ستمبر 2009ء کا ہے جبکہ کانگریس لیڈر پی چدمبرم وزیرداخلہ تھے۔ ایڈیشنل سکریٹری وزارت داخلہ وی کے پرساد نے آج معتمد داخلہ راجیو مہریشی کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ تنازعہ عشرت جہاں فرضی انکاونٹر مقدمہ سے متعلق لاپتہ پانچ دستاویزات کے منجملہ صرف ایک کا پتہ چل سکا۔ ایسا لگتا ہیکہ ان دستاویزات کو دانستہ یا نادانستہ طور پر ہٹا دیا گیا یا پھر کسی اور جگہ رکھا گیا ہے۔ تحقیقاتی پینل نے تاہم چدمبرم یا اس وقت کی یو پی اے حکومت نے کسی بھی شخص کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ پینل نے 11 برسرخدمت اور ریٹائرڈ عہدیداروں بشمول اس وقت کے معتمد داخلہ جی کے پلے کے بیانات کی بنیاد پر 52 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی۔ یہ دستاویزات 18 تا 28 ستمبر 2009ء کے درمیان لاپتہ ہوگئے تھے۔ گجرات ہائیکورٹ میں 29 ستمبر 2009ء کو دائر کردہ دوسرا حلفنامہ اس سے پہلے عدالت میں داخل کئے گئے پہلے حلفنامہ سے مختلف تھا۔ اس حلفنامہ میں کہا گیا ہیکہ ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا جس کی بنیاد پر اس نتیجہ پر پہنچا جائے کہ عشرت جہاں لشکرطیبہ کی رکن تھی۔ جو دستاویزات لاپتہ تھے ان میں اس وقت کے معتمد داخلہ کی جانب سے اٹارنی جنرل کو 18 ستمبر 2009ء کو روانہ کردہ مکتوب اور منسلکہ جات کی نقل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت کے معتمد داخلہ کی جانب سے 23 ستمبر 2009ء کو اٹارنی جنرل کو بھیجے گئے مکتوب کی نقل، اس کے بعد اٹارنی جنرل کو بھیجے جانے والے ایک اور حلفنامہ، اس وقت کے وزیرداخلہ کی جانب سے 24 ستمبر 2009ء کو بھیجا جانے والا ترمیمی حلفنامہ اور 29 ستمبر 2009ء کو گجرات ہائیکورٹ میں پیش کردہ مزید حلفنامے کی نقل لاپتہ تھی۔ کمپیوٹر ہارڈ ڈسک کے ذریعہ اس وقت کے معتمد داخلہ کی جانب سے 18 ستمبر 2009ء کو اٹارنی جنرل کو روانہ کردہ مکتوب کی نقل حاصل کی جاسکی۔ عشرت جہاں، جاوید شیخ عرف پرنیش پلے، امجد علی اکبر علی رعنا اور ذیشان جوہر 15 جون 2004ء کو احمدآباد کے مضافات میں گجرات پولیس کے ساتھ ہوئے انکاونٹر میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت پولیس نے یہ دعویٰ کیا تھاکہ مہلوکین لشکرطیبہ کے دہشت گرد تھے اور وہ اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کو ہلاک کرنے کیلئے گجرات آئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT