Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / عشرت جہاں کیس: امیت شاہ کو پھنسانے کیلئے دباؤ کی تردید

عشرت جہاں کیس: امیت شاہ کو پھنسانے کیلئے دباؤ کی تردید

نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کے ڈائرکٹر رنجیت سنہا نے آج کہا کہ عشرت جہاں فرضی انکاونٹر کیس میں گجرات کے سابق وزیرداخلہ امیت شاہ کو پھسانے کیلئے ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا اور اس مرکزی تحقیقاتی ادارہ (سی بی آئی) نے قانونی تنقیح کے دوران سچ ثابت ہونے والے ثبوتوں کی بنیاد پر چارج داخل کی ہے جس میں امیت شاہ کا نام بھی شامل

نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کے ڈائرکٹر رنجیت سنہا نے آج کہا کہ عشرت جہاں فرضی انکاونٹر کیس میں گجرات کے سابق وزیرداخلہ امیت شاہ کو پھسانے کیلئے ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا اور اس مرکزی تحقیقاتی ادارہ (سی بی آئی) نے قانونی تنقیح کے دوران سچ ثابت ہونے والے ثبوتوں کی بنیاد پر چارج داخل کی ہے جس میں امیت شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ رنجیت سنہا نے یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیشہ ایسے گمان کئے جاتے رہے ہیں۔ ہم نے بھی یہ سنا ہے۔ لیکن ہمیں دستیاب ثبوتوں کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ یقینا ہم ثبوت ایجاد نہیں کرسکتے بلکہ ثبوت تلاش کرنا پڑتا ہے اور پھر تخمینہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا یہ ثبوت چارج شیٹ میں شامل کئے جانے کے قابل ہے یا نہیں‘‘۔ سنہا نے کہا کہ یہ مسئلہ بھی اٹھایا گیا تھا کہ آیا وہ (مہلوکین) دہشت گرد تھے یا نہیں۔ رنجیت سنہا نے کہا کہ ’’درحقیقت وہ (عشرت جہاں و دیگر مہلوک ساتھی) انسان تھے۔

انہیں اس ملک میں ہلاک کیا گیا اور ہمیں ہندوستانی قانونی ضابطہ کے مطابق کارروائی کرنا تھا۔ اس میں کسی کو کوئی استثنائی حیثیت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی ہم کسی کو دہشت گردی کا لیبل لگاسکتے تھے‘‘۔ رنجیت سنہا نے کہا کہ انٹلیجنس بیورو سے رجوع ہونے کیلئے سی بی آئی کا کبھی کوئی ارادہ نہ تھا۔ انٹلیجنس بیورو کے چار افسران کے نام بھی چارج شیٹ میں شامل ہیں۔ سی بی آئی ڈائرکٹر نے کہا کہ ’’انٹلیجنس بیورو (آئی بی) بھی ہمارا ایک معاون ادارہ ہے جہاں ہمارے ساتھی کام کررہے ہیں اور جن سے ہمارے انتہائی خوشگوار سماجی و پیشہ ورانہ تعلقات ہیں۔ سی بی آئی کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ ہم انٹلیجنس بیورو سے رجوع ہوتے یا اس کو نشانہ بناتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گجرات ہائیکورٹ کے احکام پر یہ مقدمہ سی بی آئی کے تفویض کیا گیا تھا اور ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم پہلے ہی یہ ثابت کرچکی تھی کہ (عشرت جہاں اور ساتھیوں کا) فرضی انکاونٹر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’دوسرا پہلو یہ بھی تھا کہ عدالت اس واقعہ میں سازش کے پہلو کا پتہ چلایا جائے۔ انٹلیجنس بیورو نے انسداد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں انتہائی کلیدی رول ادا کیا ہے اور انہیں اس ضمن میں بھی روزادا کرنا چاہئے تھا۔ چونکہ ہائیکورٹ نے انٹلیجنس بیورو کے افسران کی تحقیقات کرنے کا ہمیں حکم دیا تھا۔ ہم نے اپنا فرض ادا کیا‘‘۔

امیت شاہ کو پھنسانے کیلئے دباؤکی تردید
نئی دہلی 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی ڈائرکٹر رنجیت سنہا نے گجرات کے سابق وزیرداخلہ امیت شاہ کو عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس میں پھنسانے کیلئے چارج شیٹ میں اُن کے نام کی شمولیت پر کسی دباؤ کی تردید کی اور کہاکہ ثبوت کی بنیاد پر ماخوذ کیا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT