Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / عصری علوم کا تصور قدیم اسلامی تہذیب کی کتابوں میں موجود

عصری علوم کا تصور قدیم اسلامی تہذیب کی کتابوں میں موجود

اردو یونیورسٹی میں سائنس کے فروغ میں عربی کا حصہ پر سمینار ۔ پروفیسر ثناء اللہ کا کلیدی خطبہ

حیدرآباد، 21؍ نومبر (پریس نوٹ) مسلم سائنسدانوں کے کارناموں پر بہت ساری کتابیں لکھی گئیں اور اسے دنیا بھر میں سراہا بھی گیا لیکن بہت سی سائنس کی شاخیں ایسی ہیں جن پر مسلم سائنسدانوں کے کارناموں کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ ایسی شاخوں پر آج دنیا یوروپ کو اوّل مانتی ہے، جن کا موجودہ عہد میں اہم مقام حاصل ہے۔ انہی میں سے ایک روبوٹکس ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ثناء اللہ ندوی، شعبۂ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ شعبۂ عربی کی جانب سے منعقدہ اس سمینار کا عنوان ’’سائنس کے فروغ میں عربی زبان کا حصہ‘‘ تھا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ پروفیسر ثناء اللہ نے کہا کہ الجزری کی تقریباً 15 انتہائی اہم ایجادیں ہمیں ملتی ہیں۔ اس میں پانی کی گھڑی، ہاتھی گھڑی، رقص کرنے والے روبوٹ شامل ہیں۔ انسان کے ہوا میں اڑنے کا تصور کے متعلق عمومی خیال ہے کہ یہ لونارڈو دا ونچی کی دین ہے۔ لیکن اس سے کافی عرصہ قبل مدینۃ الزہرہ قرطبہ اسپین میں واقع تھا میں عباس بن فرناس نے اسی تصور کو پیش کیا تھا اور اس کی کتاب میں ایک بڑے پنکھ والے ڈھانچے کے ذریعہ آدمی کے اڑنے کی تصویر موجود ہے۔ واسکو ڈی گاما سے بہت پہلے ابن ماجد نے سیاحت پر ایک جامع کتاب تحریر کی تھی۔ انہی اسلامی تہذیب و سائنس کی کتابوں کو تین اسکولوں کے تحت یوروپی زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں یوروپ کے نشاۃ ثانیہ کا سرچشمہ مسلم سائنسدانوں کے کارنامے رہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے ’’میراث گم کردہ‘‘ کے عنوان سے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلم سائنسدانوں نے جو کچھ چھوڑا تھا وہ گم شدہ نہیں بلکہ گم کردہ ہے۔ ہم اسے سنبھال کر نہ رکھ سکے۔ اپنے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن میں انہوں نے کہا کہ سائنس کا ترجمہ عربی میں ’’علم‘‘ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے علم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک دنیاوی اور دوسرا دینوی۔ یہاں سے مسلمان ہر شعبہ میں پیچھے ہونا شروع ہوگئے۔ قرآن میں حالانکہ بار بار قرآنی آیتوں اور کائنات کی آیتوں (نشانیوں) پر غور کرنے کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ قرآن شریف میں انسان کے پانی سے پیدا ہونے کا ذکر ہے جب کہ بچے کے پیدائش کے موقع پر ماں کے پیٹ میں ہونے والا پانی کا کمپوزیشن وہی ہوتا ہے جو سمندری پانی کا ہوتا ہے۔ یہ ایسی نشانیاں ہیں جس پر مسلمان توجہ نہیں کرتے اور کائناتی علوم کو سیکھنے کے لیے محنت نہیں کرتے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ سائنسی علوم کو حاصل کریں اور مستقبل میں اپنے بچوں کو بھی دینی اور سائنسی علوم ایک ساتھ سکھائیں۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی، سابق ڈین ، ایفلو نے کہا کہ سائنس کی شروعات پہلے کلمہ کے پہلے حصہ سے ہوتی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق یعنی باقی تمام چیزیں بشمول انسان اشیا کے مانند ہیں جن پر تحقیق ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے قرآن میں سے ذکر کو تو لے لیا لیکن تفکر کو چھوڑدیا جس کے باعث آج مسلمانوں کی حالت دنیا کے سامنے ہے۔ اس موقع پر اردو سائنسی مضامین کے عربی تراجم پر مبنی ایک کتاب کی رسم اجراء انجام دی گئی۔ یہ تراجم شعبہ کے اساتذہ اور طلبہ نے کیے ہیں۔ ڈاکٹر علیم اشرف جائسی، صدر شعبۂ عربی نے ابتدا میں سمینار کا تعارف پیش کیا اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر ثمینہ کوثر، اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی نے کارروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT