Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / عصری ٹکنالوجی کے استعمال سے پچاس فیصد مقدمات کی یکسوئی

عصری ٹکنالوجی کے استعمال سے پچاس فیصد مقدمات کی یکسوئی

جرائم کی روک تھام میں بڑی حد تک کامیابی ، رچہ کنڈہ پولیس کی سالانہ رپورٹ ، کمشنر مہیش مرلی بھگوت کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /21 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) جدید ٹکنالوجی کے استعمال اور نئی پالیسیوں اور اقدامات کے باوجود رچہ کنڈہ پولیس صرف 50 فیصد مقدمات کی یکسوئی میں کامیاب ہوئی ہے ۔ تاہم پولیس کمشنر رچہ کنڈہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے جرائم کی روک تھام کیلئے اقدامات میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے ۔ سال 2017 میں ٹریفک پولیس رچہ کنڈہ نے کل 7,37,288 مقدمات درج کرتے ہوئے 26,50,65,321 روپئے جرمانوں کی شکل میں حاصل کئے جو سرکاری خزانہ کی آمدنی کا سبب بنا ۔ کمشنر پولیس رچہ کنڈہ مسٹر مہیش مرلی دھر بھگوت نے آج پولیس کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ کو پیش کیا اور اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ خواتین پر مظالم گھریلو تشدد، بچہ مزدوری ، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر جرائم اور انسانی سوداگری کے علاوہ سماجی برائی کے خلاف اقدامات پولیس کیلئے بڑا مسئلہ تھا ۔ تاہم عوامی تعاون اور مستعدی سے پولیس نے بہترین کارکردگی سے اطمینان بخش سہولیات فراہم کیں ۔ کمشنر پولیس نے سالانہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا کہ کل 3002 مقدمات درج کئے گئے جس میں 1525 کی یکسوئی ہوئی ہے اور 233990646 کروڑ روپئے نقصان کے عوض 10,9335554 کروڑ روپئے کو حاصل کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈکیتی اور رہزنی کے واقعات پر قابو پانے کیلئے استعمال کی جارہی پالیسیوں سے کافی مدد حاصل ہو رہی ہے ۔ بچہ مزدوری کے تعلق کمشنر نے کہا کہ ایک ٹاسک کے طور پر بچہ مزدوری کے خلاف پولیس نے اقدامات کئے ۔ اینٹ کی بھٹیوں ، گلی کوچوں اور بازاروں میں دوکانات اور مکانات میں مزدوری کرنے والے بچوں کو مزدوری کے دلدل سے آزاد کروایا گیا اور اینٹ کی بھٹی میں کام کرنے والے بچہ مزدوری کیلئے آئندہ سال اسکول قائم کیا جائے گا ۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ ملاوٹی و نقلی غذائی اشیاء کی تیاری اور فروخت کے خلاف خصوصی اقدامات کئے گئے ۔ انسانی سوداگری میں ملوث افراد کے خلاف رچہ کنڈہ پولیس نے سخت اقدامات کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ 106 آرگنائزر کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ جبکہ جسم فروشی میں ملوث افراد کے چنگل سے 151 لڑکیوں اور خواتین کو آزاد کروایا گیا اور 31 مکانات کو ریونیو حکام کی مدد اور ان کی نگرانی میںمہربند کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ رچہ کنڈہ کی اسپیشل آپریشن ٹیم نے کل 835 مقدمات درج کئے جن میں 82 جسم فروشی اور سیکس ریاکٹ و انسانی سوداگری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جبکہ فرضی خودساختہ عاملوں ، جادوگروں کے خلاف بھی 7 مقدمات درج کئے گئے ۔ مٹکا سٹہ جوا قماربازی ، نقلی کرنسی ، نقلی پولیس ہتھیاروں اور گھٹکھا ،دھماکو اشیاء رکھنے والوں اور لینڈ گرابرس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور 33 افراد کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کیا گیا ۔ جن میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کیا گیا جبکہ نعیم ٹولی سے تعلق رکھنے والے 6 افراد بھی پی ڈی ایکٹ کارروائی کا نشانہ بنے ۔ کمشنر رچہ کنڈہ نے شی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ شی ٹیم نے کل 581 مقدمات درج کئے جن میں 555 حساس نوعیت اور 26 معمولی نوعیت کے مقدمات پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ لینڈ گرابرس کے خلاف سخت اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اور پولیس کو جدید ٹکنالوجی کے استعمال بالخصوص سی سی ٹی وی کیمروں سے کافی مدد حاصل ہورہی ہے ۔ انہوں نے سال 2018 کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ رچہ کنڈہ پولیس کو عوامی خدمات اور فرینڈلی پولیسنگ میں مثالی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ رچہ کنڈہ حدود میں پہاڑی شریف کندکور مہیشورم اور بالاپور پولیس اسٹیشنوں پر مشتمل پہاڑی شریف ڈیویژن تشکیل دیا جائے گا اور کمشنریٹ کی تعمیر کیلئے اراضی کے حصول کو اولین ترجیح دی جائے گی اور مسائل کو دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس موقع پر جوائنٹ کمشنر مسٹر ترون جوشی کے علاوہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس اے سی پیز و دیگر موجود تھے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT