Saturday , February 24 2018
Home / ہندوستان / عصمت دری ، قتل کے ملزمین کی رہائی کو جمعیۃ علماء چیلنج کریگی

عصمت دری ، قتل کے ملزمین کی رہائی کو جمعیۃ علماء چیلنج کریگی

ممبئی،15نومبر (سیاست ڈاٹ کام)مہاراشٹرا کے علاقے مراٹھواڑہ کے ضلع بیڑ کے ماجل گاؤں علاقے کے قصبہ چورمبھا میں ماں اور بیٹی کو عصمت دری کے بعد قتل کردیئے جانے کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ سے راحت پانے والے دوملزمین کے خلاف جمعیۃ علماء سپریم کورٹ سے رجو ع ہوگی کیونکہ ریاستی حکومت نے ملزمین کی رہائی کے خلاف اب تک اپیل داخل نہیں کی ہے ۔ اس فیصلے کی اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔ گلزار اعظمی نے بتایا کہ قتل اور عصمت دری کے معاملے میں زیریں عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے دو غیر مسلم کرشنا راؤ ریڈی اور اچرت کچرو چونچے کو گذشتہ 14 اگست کو ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ایس ایس شند ے اور جسٹس کے کے سونو نے نا کافی ثبوت کی بناء پر پھانسی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں باعزت رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے جس کے بعد علاقے کی عوام خصوصاً اقلیتی فرقے میں شدیدبے چینی پائی جارہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے مشتبہ کرردار اداکرنے سے ملزمین کو راحت ملی ہے ۔سرکاری وکیل نے ہائی کورٹ میں پوری شدت سے بحث نہیں کی ۔ سرکاری وکیل ایمانداری سے کام کرتا تو ملزمین کو پھانسی کی سزا سے کوئی بچا نہیں سکتا تھا کیونکہ دونوں ملزمین نے مسلم ماں بیٹی کا ریپ کرنے کے بعد انہیں بے رحمی سے قتل کردیا تھا ۔ گلزار اعظمی کے مطابق تادم تحریر ریاستی سرکار نے اورنگ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا ہے ، دوسری جانب ملزمین پر شکنجہ کسنے کے لیئے جمعیۃ علماء نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گور اگروال کو مقرر کیا ہے جو اگلے چند ایام میں ملزمین کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کردیں گے ۔
وقار کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں اسے ایک کرکٹ اسٹیڈیم میں اے کے 47 رائفل کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT