Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / عصمت ریزی ملزمین کا الزامات سے انکار ، بے قصوری کا دعویٰ

عصمت ریزی ملزمین کا الزامات سے انکار ، بے قصوری کا دعویٰ

نارکو ٹسٹ کیلئے مندر کے محافظ ، دو اسپیشل پولیس آفیسرس اور دیگر ملزمین کی عدالت سے درخواست

کتھوعہ ۔16 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع کتھوعہ میں آٹھ سالہ لڑکی کے اغواء ، عصمت ریزی اور قتل کے آٹھ ملزمین نے اپنی بے قصوری کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنا نارکو معائنہ کروانے کیلئے جج سے درخواست کی ۔ آصفہ عصمت ریزی و قتل مقدمہ کی آج یہاں سماعت ہوئی ، اس شرمناک اور بربریت انگیز واقعہ پر ملک بھر میں عوامی برہمی کی لہر جاری ہے۔ اس مقدمہ کے آٹھ کے منجملہ سات ملزمین کو ضلع و سیشنس جج سنجے گپتا کی عدالت میں پیش کیا گیا جنھوں نے ریاستی کرائم برانچ کو ہدایت کی کہ ملزمین کو چارج شیٹ کی نقل دی جائے ۔ انھوں نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 28 اپریل کو مقرر کی ہے ۔ آٹھواں ملزم جونابال ہے اوراُس نے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے اجلاس پر درخواست ضمانت داخل کی جس پر سماعت کی تاریخ 26 اپریل مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ضلع کتھوعہ کے ایک گاؤں میں قبائیلی مسلم برادری سے تعلق رکھنے والی ایک کمسن لڑکی کا مبینہ طورپر جنوری میں اغواء کیاگیا تھا اور ایک ہفتہ تک ایک گاؤں کے مندر میں رکھتے ہوئے اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی ۔ اس لڑکی کو حبس بیجا میں رکھتے ہوئے منشیات دی گئی تھیں اور مسلسل اجتماعی عصمت ریزی کا شکار بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور نعش اس کے گھر کے قریب پھینک دی گئی تھی ۔ کرائم برانچ کی طرف سے داخل کردہ چارج شیٹس کے مطابق مسلم قبائیلی برادری کو اس علاقہ سے بیدخل کرنے کیلئے انتہائی منظم و منصوبہ بند انداز میں اس کمسن لڑکی کااغواء ، عصمت ریزی اور قتل کیا گیا تھا ۔ نابالغ ملزم کے خلاف ایک علحدہ چارج شیٹ پیش کی گئی ہے ۔ ملزین کے وکیل صفائی نے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے اجلاس پر 9 اپریل کو پیش کردہ چارج شیٹ کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی ۔ سیشنس کی عدالت میں اس مقدمہ کی مختصر سماعت کے فوری بعد سات ملزمین کو سخت ترین سکیورٹی کے درمیان جیل منتقل کردیا گیا ۔ اس موقع پر خصوصی پولیس افسر دیپک کھجوریہ جس نے مبینہ طورپر اس لڑکی کی کئی مرتبہ عصمت ریزی کی تھی پولیس ویان میں سوار ہوتے ہوئے کہاکہ وہ بھی نارکو ٹسٹ اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے آغاز پر اصل ملزم سانجی رام کی بیٹی مدھو شرما نے عدالت کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کی۔ کتھوعہ کامپلکس میں 9 اپریل کو مقامی بار اسوسی ایشن نے کرائم برانچ کو اس مقدمہ کی چارج شیٹ داخل کرنے سے روک دیا تھا جس کے بعد پیداشدہ کشیدگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ ضلع کتھوعہ کے گاؤں میں واقع مندر کی دیکھ بھال کرنے والے سانجی رام کو کلیدی ملزم قرار دیا گیا ہے کیونکہ آٹھ سالہ قبائیلی لڑکی کو اغواء کے بعد اس مندر میں رکھا گیا تھا اور اس کو نشیلی ادویات دیتے ہوئے مسلسل آٹھ دن تک وحشیانہ انداز میں عصمت ریزی کی تھی ۔شیطان کو بھی شرمسار کردینے والے اس واقعہ کے دیگر ملزمین میں اسپیشل پولیس افسران دیپک کھجوریہ اور سریندر ورما کے علاوہ ان کا دوست پرویش کمار عرف منو ، سانجی رام کا بیٹا وشال جنگوترہ عرف ثما ، ایک بھتیجہ اور ایک نابالغ لڑکا بھی شامل ہے۔ چارج شیٹ میں تحقیقاتی افسران ، ہیڈکانسٹیبل تلک راج ، اور ایک سب انسپکٹر آنند دتہ کے نام بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کلیدی ثبوت مٹادینے کیلئے سانجی رام سے مبینہ طورپر 4 لاکھ روپئے رشوت لیا تھا۔ سانجی رام اس کے بیٹے اور چند دیگر ملزمین کی پیروی کرنے والے وکیل انکش شرما نے جج سے درخواست کی کہ چارج شیٹ کی نقول ملزمین کے حوالے کی جائیں۔ سانجی رام نے جج سے کہا کہ وہ (ملزمین ) نارکو ٹسٹ چاہتے ہیں اور اس معائنہ کا سامنا کرنے تیار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT