عصمت ریزی واقعات اور بی جے پی

چارہ گر کو دکھائو مداوا کرے
زخم سب کو دکھانے سے کیا فائدہ
عصمت ریزی واقعات اور بی جے پی
ملک میں دو مختلف مقامات پر پیش آئے عصمت ریزی کے دو مختلف واقعات نے بی جے پی کے اصل چہرہ کو بے نقاب کردیا ہے ۔ جموں و کشمیر میں کٹھوا کے مقام پر ایک انتہائی بدبختانہ اور بہیمانہ واقعہ میں 8 سالہ معصوم لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد مسلسل عصمت ریزی کی گئی اور پھر اسے کا قتل کردیا گیا ۔ یہ گھناؤنا جرم کرنے والوں نے مندر میں پناہ لی تھی ۔ دوسرا واقعہ اترپردیش میں اناؤ کا ہے جہاں بی جے پی کے رکن اسمبلی پر ہی سنگین الزام عائد کئے گئے ہیں۔ ان پر عصمت ریزی کے علاوہ متاثرہ لڑکی کے والد کے قتل کی سازش رچنے کا بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔ یہ دونوں واقعات انتہائی مذموم اور سنگین ہیں ۔ ان دونوں واقعات پر بی جے پیوار اس کی ہم قبیل تنظیموں کے قائدین و ارکان کا جو رویہ ہے وہ اور بھی مذموم اور افسوسناک ہے ۔ کٹھوا واقعہ میں تو آٹھ سالہ لڑکی کے ساتھ ہوئے انتہائی غیر انسانی سلوک پر جموں و کشمیر کے وزیر نے تک ملزم کی مدافعت کی اور اس کی تائید میں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ سڑک پر تک بیٹھ گئے ۔ ان احتجاجیوں کا الزام تھا کہ ملزمین چونکہ ہندو ہیں اس لئے ان پر الزام عائد کرتے ہوئے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی گھٹیا سوچ کو ظاہر کرتا ہے ۔ ایک معصوم کمسن لڑکی کا اغوا کیا گیا ‘ اس کو ایذا دی گئی ‘ اس کی عصمت ریزی مسلسل کی گئی اور پھر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس غیر انسانی فعل کی مذمت کرنے اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہونچانے کی بجائے اس کی مدافعت میں ہندو تنظیمیں سڑکوں پر اتر آئی تھیں اور انہیں نہ صرف بی جے پی کی تائید حاصل تھی بلکہ بی جے پی کے وزیر بھی احتجاج کا حصہ بنتے ہوئے سڑک پر بیٹھ گئے ۔ بجائے اس کے کہ متاثرین کو انصاف رسائی کیلئے احتجاج کیا جاتا ملزم کو بچانے کیلئے احتجاج کیا گیا جو بی جے پی قائدین کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ اسی طرح اناؤ میں تو خود بی جے پی کے رکن اسمبلی پر عصمت ریزی کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ ان کے بھائی پر متاثرہ لڑکی کے والد کو پولیس تحویل میں مارپیٹ کرکے موت کے گھاٹ اتاردینے کا الزام ہے ۔ اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے بلکہ اقتدار کے بیجا استعمال کے ذریعہ ملزم کو بچانے اور متاثرہ لڑکی کی کردار کشی کا طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے ۔
اناؤ کیس میں بی جے پی حکومت کی مداخلت کے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ملزم رکن اسمبلی کو کیفر کردار تک پہونچانے اور تحقیقات کو غیر جانبداری سے آگے بڑھانے کی بجائے انہیں بچانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے ۔ آج جب ریاست کے ڈی جی پی نے میڈیا سے بات کی تو انہوں نے عصمت ریزی کے ملزم کا ’’ معزز رکن اسمبلی جی ‘‘ کہتے ہوئے تذکرہ کیا ۔ جب کسی ملزم کے تعلق سے ریاستی پولیس سربراہ اس طرح کا ہمدردانہ اور عزت و احترام والا رویہ اختیار کرینگے تو ان کے خلاف تحقیقات کس ڈھنگ سے ہونگی اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا ۔ جب میڈیا والوں نے ڈی جی پی کو اس تعلق سے توجہ دلائی تو انہوں نے اپنے الفاظ واپس لینے کی بجائے اس کی پوری شدت کے ساتھ مدافعت بھی کی اور کہا کہ یہ عزت و احترام اس لئے ہے کیونکہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور ابھی تو ان کے خلاف صرف الزام ہے اور ابھی انہیں خاطی قرار نہیں دیا گیا ہے ۔ ڈی جی پی سے سوال کرنا چاہئے کہ کیا دوسرے ملزمین کے ساتھ بھی جنہیں اب تک عدالتوں نے خاطی قرار نہیں دیا ہو ریاستی پولیس وہی رویہ اختیار کریگی جو بی جے پی رکن اسمبلی کے ساتھ اختیار کیا جا رہا ہے ؟ ۔ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا اور یہ صرف حکومت کے ذمہ داروں کی ایما پر انہیں خوش کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ پولیس سربراہ کو متاثرہ سے ہمدردی ہونے اور اس کی مدد کرنے کی بجائے ملزم کے تعلق سے قابل احترام الفاظ کا استعمال بھی ان کی ذہنیت اور سوچ کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے ۔
اناؤ کیس میں متاثرہ لڑکی کے کردار کے تعلق سے تک بی جے پی کے دوسرے قائدین اور ارکان اسمبلی کیچڑ اچھالنے میں لگے ہیں۔ لڑکی کے ماضی کے تعلق سے ریمارکس کرتے ہوئے اس کو مبینہ طور پر بے عزت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ بی جے پی کی ذہنیت کی عکاسی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں صرف اپنے حواریوں اور اپنے ہم قبیل ارکان کی اہمیت ہے اور ملک میں نہ معصوم بچیوں کی عزت کی کوئی فکر ہے اور نہ کوئی نابالغ لڑکی کے کردار کشی سے گریز کیا جاتا ہے ۔ اگر بی جے پی کے وزیر میدان میں آتے ہیں تو عصمت ریزی اور قتل کے ملزمین کو بچانے کیلئے آتے ہیں۔ ملک کے عوام کو بی جے پی کی اس ذہنیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT